Dagh Dehlvi's Photo'

داغؔ دہلوی

1831 - 1905 | دلی, ہندوستان

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

82.8K
Favorite

باعتبار

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ

جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

a heart O lord if you bestow, one such it should be

that smilingly I may spend my time of misery

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے

those who meet you lovingly then into dust you grind

those who bear affection, dear, are very hard to find

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے

آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

upon my death she stated to my rivals, if you please

may God spare the parted soul had many qualities

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

ah! this denial, nothing can allay

every day you say no, not today

ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گے

تمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا

عاشقی سے ملے گا اے زاہد

بندگی سے خدا نہیں ملتا

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

آپ کا اعتبار کون کرے

روز کا انتظار کون کرے

who can depend on what you say?

who will wait each every day?

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے

الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے

by lightning scared, she clings to me

may two days,Lord, this weather be

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات

ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہو

دو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

بات تک کرنی نہ آتی تھی تمہیں

یہ ہمارے سامنے کی بات ہے

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ

وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد

ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

you've never drunk O hapless priest

The joys of wine how will you see

ساقیا تشنگی کی تاب نہیں

زہر دے دے اگر شراب نہیں

جن کو اپنی خبر نہیں اب تک

وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری

لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میری

from voicing my emotions, love makes me refrain

grievances come to my lips but silent there remain

یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزا

میں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں

عرض احوال کو گلا سمجھے

کیا کہا میں نے آپ کیا سمجھے

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی

دوست کی دوست مان لیتے ہیں

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

where virgins aged a million years reside

hopes for such a heaven why abide

یہ تو نہیں کہ تم سا جہاں میں حسیں نہیں

اس دل کو کیا کروں یہ بہلتا کہیں نہیں

نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

یوں بھی ہزاروں لاکھوں میں تم انتخاب ہو

پورا کرو سوال تو پھر لا جواب ہو

آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی

میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

دی مؤذن نے شب وصل اذاں پچھلے پہر

ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا

as I was meeting my beloved there was a call to prayer

that cursed priesthad to think of God just then and there?

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا

مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو

دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حال

ہو بھی آرام تو کہہ دوں مجھے آرام نہیں

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر

آرزو کی آرزو ہونے لگی

ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل

دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

for reasons of formality, I've chosen to believe

you have surely lost your faith when you so deceive

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا

تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں

ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے

اس ادا کا کہیں جواب بھی ہے

یہ سیر ہے کہ دوپٹہ اڑا رہی ہے ہوا

چھپاتے ہیں جو وہ سینہ کمر نہیں چھپتی

دیکھنا اچھا نہیں زانو پہ رکھ کر آئنہ

دونوں نازک ہیں نہ رکھیو آئنے پر آئنہ

دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

she takes my heart for free and yet holds it in disdain

far from showing gratitude, she ventures to complain