Dagh Dehlvi's Photo'

داغؔ دہلوی

1831 - 1905 | دلی, ہندوستان

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

داغؔ دہلوی

غزل 80

اشعار 191

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

  • شیئر کیجیے

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ

جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

  • شیئر کیجیے

قطعہ 2

 

قصہ 5

 

کتاب 101

آفتاب داغ

 

1923

آفتاب داغ

 

1885

آفتاب داغ

 

1906

آفتاب داغ

جلد ـ 002

1959

آفتاب داغ

 

1906

آفتاب داغ

دیوان دوم

1959

آفتاب داغ

 

1922

آفتاب داغ

 

1963

آفتاب داغ

 

 

امیر و داغ کے کلام کا انتخاب

 

1943

تصویری شاعری 37

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل_بیتاب کا حال ہو بھی آرام تو کہہ دوں مجھے آرام نہیں

کوئی نام_و_نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر آرزو کی آرزو ہونے لگی

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا وفا کریں_گے نباہیں_گے بات مانیں_گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا رہا نہ دل میں وہ بے_درد اور درد رہا مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا نہ پوچھ_گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ_بھگت تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق کہو وہ تذکرۂ_ناتمام کس کا تھا ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں سنا جو تو نے بہ_دل وہ پیام کس کا تھا اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں لحاظ آپ کو وقت_خرام کس کا تھا گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا ہمیں تو حضرت_واعظ کی ضد نے پلوائی یہاں ارادۂ_شرب_مدام کس کا تھا اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے تباہ_حال بہت زیر_بام کس کا تھا وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے_وفا جانا خیال_خام یہ سودائے_خام کس کا تھا انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے_وفا نکلا یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسم خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے دوستی میں تری در_پردہ ہمارے دشمن اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

ویڈیو 79

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

اقبال بانو

اعجاز حسین حضروی

خورشید بیگم

پنکج اداس

Aae koi to baith bhi jaae

ملکہ پکھراج

Aaj ki raat

نور جہاں

Be-zabaanii zabaa.n na ho jaa.e

ملکہ پکھراج

Iqbal Bano Tere Waaday ko Dagh Dehlvi

اقبال بانو

Kiya hai deendar us sanam ko

شمونا رائے بسواس

Main hosh mein tha to phir uspe mar gaya kaise

مہدی حسن

Mohabbat mein karen kya kuch kisi se ho nahi sakta

شمونا رائے بسواس

Sarguzasht apni fasana hai zamane ke liye

دلراج کور

رنا لیلیٰ

مہدی حسن

رنا لیلیٰ

آپ کا اعتبار کون کرے

مہران امروہی

آپ کا اعتبار کون کرے

داغؔ دہلوی

آپ کا اعتبار کون کرے

شمونا رائے بسواس

آرزو ہے وفا کرے کوئی

نامعلوم

اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے

طاہرہ سید

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم

احمد حسین, محمد حسین

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم

نامعلوم

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

شریا گھوشال

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

ثریا

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

نامعلوم

پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح

داغؔ دہلوی

پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح

ہیم لتا

پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرح

اعجاز حسین حضروی

پھر شب_غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکر

نامعلوم

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے

تاج ملتانی

تماشائے_دیر_و_حرم دیکھتے ہیں

نامعلوم

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

Urdu Studio

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

مہران امروہی

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

داغؔ دہلوی

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

مہدی حسن

جلوے مری نگاہ میں کون_و_مکاں کے ہیں

تاج ملتانی

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

داغؔ دہلوی

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

غلام علی

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

نامعلوم

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

شمونا رائے بسواس

دل چرا کر نظر چرائی ہے

مہران امروہی

دل چرا کر نظر چرائی ہے

نامعلوم

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

داغؔ دہلوی

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

نور جہاں

دل کو کیا ہو گیا خدا جانے

مہران امروہی

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی

داغؔ دہلوی

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی

غلام علی

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں

طاہرہ سید

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں

داغؔ دہلوی

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں

ملکہ پکھراج

زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں

ملکہ پکھراج

ساز یہ کینہ_ساز کیا جانیں

داغؔ دہلوی

ساز یہ کینہ_ساز کیا جانیں

فریدہ خانم

ساز یہ کینہ_ساز کیا جانیں

بیگم اختر

ساز یہ کینہ_ساز کیا جانیں

ملکہ پکھراج

ساز یہ کینہ_ساز کیا جانیں

راحت فتح علی

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

مہران امروہی

سبق ایسا پڑھا دیا تو نے

سمن کلیانپور

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ_الفت کبھی نہ کرنا

چندن داس

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا

طلعت عزیز

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا

نامعلوم

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا

داغؔ دہلوی

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا

شمونا رائے بسواس

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا

نامعلوم

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال_یار ہوتا

نامعلوم

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

داغؔ دہلوی

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

مہدی حسن

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

بیگم اختر

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

داغؔ دہلوی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

داغؔ دہلوی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

محمد رفیع

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

داغؔ دہلوی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

مہدی حسن

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

فریدہ خانم

غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا

مہران امروہی

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

فریدہ خانم

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

نامعلوم

محبت کا اثر جاتا کہاں ہے

نامعلوم

محبت کا اثر جاتا کہاں ہے

مہران امروہی

ناروا کہئے ناسزا کہئے

داغؔ دہلوی

ناروا کہئے ناسزا کہئے

فریدہ خانم

وہ زمانہ نظر نہیں آتا

مہران امروہی

کعبہ کی ہے ہوس کبھی کوئے_بتاں کی ہے

داغؔ دہلوی

کعبہ کی ہے ہوس کبھی کوئے_بتاں کی ہے

شمونا رائے بسواس

کون سا طائر_گم_گشتہ اسے یاد آیا

مہدی حسن

کون سا طائر_گم_گشتہ اسے یاد آیا

مختار بیگم

کون سا طائر_گم_گشتہ اسے یاد آیا

مختار بیگم

کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سے

تاج ملتانی

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو

انیتا سنگھوی

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو

داغؔ دہلوی

کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری

اعجاز حسین حضروی

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

استاد امید علی خان

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

داغؔ دہلوی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

داغؔ دہلوی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

طاہرہ سید

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

داغؔ دہلوی

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

عابدہ پروین

آڈیو 45

آپ کا اعتبار کون کرے

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

ساز یہ کینہ_ساز کیا جانیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

  • محمود رامپوری محمود رامپوری شاگرد

"دلی" کے مزید شعرا

  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • فرحت احساس فرحت احساس
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • انیس الرحمان انیس الرحمان
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • نسیم دہلوی نسیم دہلوی