Dagh Dehlvi's Photo'

داغؔ دہلوی

1831 - 1905 | دلی, ہندوستان

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

تخلص : 'داغ'

اصلی نام : نواب مرزا خاں

پیدائش : 25 May 1831, دلی, ہندوستان

وفات : 17 Mar 1905

Relatives : سائل دہلوی (شاگرد) , احسن مارہروی (شاگرد) , ہجر ناظم علی خان (شاگرد)

LCCN :n84086596

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

what coyness this is, to abide,a screen beside her face

which neither does she clearly hide nor openly display

what coyness this is, to abide,a screen beside her face

which neither does she clearly hide nor openly display

بلبل ہند،فصیح الملک نواب مرزا داغؔ وہ عظیم المرتبت شاعر ہیں جنہوں نے اردو غزل کو اس کی حرماں نصیبی سے نکال کر محبت کے وہ ترانے گائے جو اردو غزل کے لئے نئے تھے۔ان سے پہلے غزل ہجر کی  تڑپ سے یا پھر تخیل کی بے لگام اڑانوں سے عبارت تھی۔ داغ ؔنے اردو غزل کو ایک شگفتہ اور رجائی لہجہ دیا اور ساتھ ہی اسے بوجھل فارسی تراکیب سے باہر نکال کے قلعہ معلیٰ کی خالص ٹکسالی اردو میں شاعری کی جس کی داغ بیل خود داغؔ کے استاد شیخ ابراہیم ذوقؔ رکھ گئے تھے۔ نیا اسلوب سارے ہندوستان میں اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں لوگوں نے اس کی پیروی کی اور ان کے شاگرد بن گئے۔زبان کو اس کی موجودہ شکل میں ہم تک پہنچانے کا سہرا بھی داغؔ کے سر ہے۔داغؔ ایسے شاعر اور فنکار ہیں جو اہنے فکر و فن،شعر و سخن اور زبان و ادب کی تاریخی خدمات کے لئے کبھی فراموش نہیں کئے جائیں گے۔
داغؔ کا اصل نام ابراہیم تھا  لیکن وہ نواب مرزا خان کے نام سے جانے گئے  ۔ وہ 1831 میں دہلی میں پیدا ہوئے، ان کے والد  نواب شمس الدین والیٔ فیروز پور جھرکہ تھےجنہوں نے ان کی والدہ مرزا خانم عرف چھوٹی بیگم سے با قائدہ شادی نہیں کی تھی۔نواب شمس الدیں خان کو اس وقت جب داغؔ تقریباً چار برس  کے تھے،دہلی کے ریزیڈنٹ ولیم فریزر کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی۔اس کے بعد جب ان کی عمر تیرہ سال کی تھی ،ان کی والدہ نےاس وقت کی برائے نام مغلیہ سلطنت کے ولی عہد مرزا فخرو سے شادی کر لی تھی۔اس طرح داغؔ کی ذہنی اور علمی تربیت قلعہ کے ماحول میں ہوئی۔ان کو اپنے وقت کی بہترین تعلیم دی گئی جو شہزادوں اور امراء کے لڑکوں کے لئے مخصوص تھی۔قلعہ کے رنگین اور ادبی ماحول میں داغؔ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے ذوق کی شاگردی اختیار کرلی ۔نوعمری سی ہی داغؔ کی شاعری میں نیا بانکپں تھا۔ان کے نئے انداز کو امام بخش صہبائی،غالب اور شیفتہ سمیت تمام اہل علم نے سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔15 سال کی ہی عمر میں انہوں نے اپنی خالہ عمدہ خانم کی بیٹی فاطمہ بیگم سے شادی کر لی۔عمدہ خانم نواب رامپور یوسف علی خاں کے تصرف میں تھیں۔
داغؔ کی زندگی کا بہتریں وقت لال قلعہ میں گزرا۔یہیں کے ماحول میں ان کی جنسی خواہشات جاگیں اور یہیں ان کی تکمیل کا سامان ہوا۔اس زمانہ میں طوائفوں سے تعلقات رکھنا معیوب نہیں تھا بلکہ تمول کی نشانی سمجھا جاتا تھا ۔اس ماحول نے داغؔ کو شاہد باز بنا دیا۔وہ حسن پرست تھے اور زندگی کے آخری دنوں تک ایسے ہی رہے۔داغؔ کسی افلاطونی عشق کے شکار نہیں ہوئے،وہ تو بس خوبصورت چہروں کے دلدادہ تھے۔اگر اچھی صورت پتھر میں بھی نظر آ جائے تو وہ اس کے عاشق!۔۔۔
"بت ہی پتھر کے کیوں نہ ہوں اے داغ
اچھی صورت کو دیکھتا ہوں میں"
 داغ کی شعر گوئی کا سب سے بڑا محرک خوبصورت چہرہ تھا۔
لال قلعہ میں داغؔ تقریباً چودہ سال رہے۔1856 میں مرزا فخرو کا انتقال ہو گیا اور داغؔ کو وہاں سے باہر نکلنا پڑا۔ایک ہی سال بعد 1857 کا غدر ہوا اور داغؔ دہلی کو بھی خیرآباد کہہ کر رامپور چلے گئے جہاں وہ نواب کے مہمان کی طرح رہے۔اس وقت رامپور میں بڑے بڑے اہل فن جمع تھے اور داغؔ کو اپنی پسند کا ماحول میسر تھا۔نواب یوسف علی خان کی موت کے بعد نواب کلب علی خان مسند نشین ہوئے۔وہ داغؔ کی صلاحتوں سے متاثر تھے، انہوں نے داغؔ کو کارخانہ جات،فراش خانہ اور اصطبل کی داروغی سونپ کر ان کی تنخواہ 70 روپے ماہانہ مقرر کر دی، اسی زمانہ میں ان کی ملاقات منی بائی حجاب سے ہوئی جس کے ذکر سے داغؔ کا کوئی تذکرہ خالی نہیں۔منی بائی حجاب کلکتہ کی ایک ڈیرہ دار طوائف ،حسن و جمال،خوش گلوی اور عشوہ طرازی میں اپنی مثال آپ تھی۔داغؔ سو جان سے اس پر فدا ہو گئے۔یہ طوائف رامپور کے ایک سالانہ میلہ میں،جو جشن کی طرح منایا جاتا تھا خاص طور پر بلائی گئی تھی۔اس وقت داغؔ کی عمر 51 سال تھی۔ان کا تعلق نشیب و فراز سے گزرتا ہوا،داغؔ کے آخری ایام تک رہا۔
یہاں سے کچھ عرصہ کے کئے داغؔ کے ستارے گردش میں رہے۔نواب کلب علی کی موت کے بعد نئے نواب مشتاق عل خاں کو شعر و شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور فنکاروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔داغؔ کو رامپور چھوڑنا پڑا۔کچھ عرصہ ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں قسمت آزمائی کی اور شاگرد بنائے آخر حیدر آباد کے نواب محبوب علی خان نے ان کو حیدر آباد بلا لیا۔
  "دلی سے چلو داغ کرو سیر دکن کی
گوہر کی ہوی قدر سمندر سے نکل کر"
 بطور استاد ان کا وظیفہ 450 روپے ماہانہ مقرر کیا گیا جو بعد میں ایک ہزار روپے ہو گیا۔ساتھ ہی ان کو  جاگیر میں اک گاؤں ملا۔نواب حیدرآباد نے ہی ان کو بلبل ہند،جہان استاد،دبیر الدولہ،ناظم جنگ اور نواب فصیح المک کے خطابات سے نوازا۔داغؔ آخری عمر تک حیدرآباد میں ہی رہے۔ یہیں 1905 میں ان کا انتقال ہوا۔داغؔ نے پانچ دیوان چھوڑے جن میں 1028 غزلیں ہیں۔
داغؔ ہی ایسے خوش قسمت شاعر تھے جس کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ان کے شاگردوں میں فقیر سے لے کر بادشاہ تک اور عالم سے لے کر جاہل تک ہر طرح کے لوگ تھے۔پنجاب میں علامہ اقبال مولانا ظفر علی،مولوی محمد الدین فوق اور یو پی میں سیماب صدیقی،اطہر ہاپوڑی،بیخود دہلوی،نوح ناروی اور آغا شاعر وغیرہ سب ان کےے شاگرد تھے۔داغ کو جو مقبولت اپنی زندگی میں ملی وہ کسی شاعر کو نہیں ملی۔شاعرانہ کمال عوامی مقبولیت کا کبھی ضامن نہیں رہا۔ملک بھر میں ہزاروں شاگردوں کے ساتھ ساتھ شاعری کو مقبول بنانے میں طوائفوں اور قوالوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔داغؔ اچھی صورت کے ساتھ ساتھ موسیقی کے بھی رسیا تھے۔داغؔ نے حیدرآباد میں تقرر کے بعد آگرہ کی ایک رنڈی صاحب جان کو نوکر رکھا اس کے بعد میرٹھ کی عمدہ جان نوکر ہوئی جو گانے میں ماہر تھی کچھ روز تک الہٰی جان نظروں میں بھی رہی، اختر جان سورت والی 200 روپے ماہوار پر ان کی مستقل ملازم تھی۔داغؔ کی طوائف نوازی بس دل بہلانے کے لئے تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔وہ دن میں جو غزل کہتے شام کو وہی رنڈی کو یاد کرا دیتے،خود دھن بناتے ،طرز سکھاتے اور عمدگی سے گوا کر سنتے۔اسی رات وہ رنڈی اپنے کوٹھے پر وہی غزل گاتی جو دوسری رنڈیاں بھی  یاد کر لیتیں۔دوسری صبح وہی غزل سارے شہر میں مشہور ہو جاتی،ایک قوال مستقل ملازم تھا جو روزانہ حاضری دیتا اور تازہ غزلیں لے کر طوائفوں اور قوالوں کو دیتا۔
داغؔ کی شاعری ایک محور پر گھومتی ہے اور وہ ہے عشق!جنسی محبت کے باوجود انوتں نے عاشقانہ جذبات کا بھرم رکھا ہے اور نفسیاتی بصیرت کا اظہار ان کے یہاں جا بجا ملتا ہے۔داغؔ کی شاعری میں شبابیات،عیاشی،ہوسناکی اور کھل کھیلنے کا جو عنصر ہے اس کے اظہار میں داغؔ نے ایک کیفیت پیدا کر دی ہے۔عام طور عشقیہ جذبات ہی داغؔ کی شاعری میں دوڑتے نظر آتے ہیں، جنہیں طرح طرح کے رنگ بدلتے دیکھ کر قاری کبھی اچھل پڑتا ہے ،کبھی آزردہ ہوجاتا ہے،کبھی ان حالات کو اپنے دل کی گہرائیوں میں تلاش کرتا ہے اور کبھی داغؔ کی بے پایاں شہرت اور اس میں تفکر کی کمی اسے مایوس کر دیتی ہے۔ان کی غزلیں مترنم بحروں میں ہیں۔ان کی زبان آسان،شستہ اور سادہ ہے۔بیان کی شوخی،بے تکلفی طنز، جذبہ کی فراوانی اور تجربہ و مشاہدے کی کثرت سے ان کی غزلیں بھرپور ہیں اردو کی پوری شاعری میں داغ واحد "پلے بوائے"شاعر ہوئے ہیں جن کی خوش دلی  اور خوش باشی نے ہماری شاعری کو ایک نئے موڈ سے آشنا کیا۔وہ جاتی ہوئی بہار کے آخری زمزمہ سنج تھے جو اردو کے سرچشموں تک پہنچے اور ان کی قوت نمو کو آشکار کیا،  داغ کی   تمام شاعری وصل کی شاعری ہے، نشاطیہ لب و لہجہ،غیر منافقانہ رویہ اور دہلی کی زبان پر قدرت داغؔ کی مقبولیت کا راز ہے۔