Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

درد پر۲۰ بہترین اشعار

زندگی کی تلخ حقیقتیں

بعض اوقات درد کی صورت میں نمایا ہوتی ہیں۔کرب کے اظہار کا متبادل شاعری سے بہتر کچھ نہیں جو ایسے وقت میں ہمیں نہ صرف ثابت رہنا سکھاتا ہے بلکہ زندگی کے تئیں ہماری جدوجہد کو جلا بخشتا ہے۔

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔

مرزا غالب

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

امیر مینائی

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب

میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

حفیظ جالندھری

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

جاں نثار اختر

آج تو دل کے درد پر ہنس کر

درد کا دل دکھا دیا میں نے

زبیر علی تابش

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا

مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔

داغؔ دہلوی

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

منظر لکھنوی

کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے

ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری

عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا

ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

درد دل کتنا پسند آیا اسے

میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

آسی غازی پوری

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں جدائی کا لمحہ بھر کا صدمہ بیان ہوا ہے کہ محبوب کے پہلو سے اٹھتے ہی درد اندر سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ “اٹھنا” یہاں جسمانی حرکت کے ساتھ دل کے درد کے جاگنے کی علامت ہے۔ جذبہ بے بسی ہے: چاہ کر بھی دل اپنے ردِّعمل کو روک نہیں پاتا۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں جدائی کا لمحہ بھر کا صدمہ بیان ہوا ہے کہ محبوب کے پہلو سے اٹھتے ہی درد اندر سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ “اٹھنا” یہاں جسمانی حرکت کے ساتھ دل کے درد کے جاگنے کی علامت ہے۔ جذبہ بے بسی ہے: چاہ کر بھی دل اپنے ردِّعمل کو روک نہیں پاتا۔

میر تقی میر

دل سراپا درد تھا وہ ابتدائے عشق تھی

انتہا یہ ہے کہ فانیؔ درد اب دل ہو گیا

فانی بدایونی

حال تم سن لو مرا دیکھ لو صورت میری

درد وہ چیز نہیں ہے کہ دکھائے کوئی

جلیل مانک پوری

مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا

جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

اقبال صفی پوری

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

جگر مراد آبادی

یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں

اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے

بشیر بدر

غم میں کچھ غم کا مشغلا کیجے

درد کی درد سے دوا کیجے

منظر لکھنوی

ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا

دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے

حفیظ جالندھری
بولیے