درد پر۲۰ بہترین اشعار
زندگی کی تلخ حقیقتیں
بعض اوقات درد کی صورت میں نمایا ہوتی ہیں۔کرب کے اظہار کا متبادل شاعری سے بہتر کچھ نہیں جو ایسے وقت میں ہمیں نہ صرف ثابت رہنا سکھاتا ہے بلکہ زندگی کے تئیں ہماری جدوجہد کو جلا بخشتا ہے۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔
-
موضوعات: درداور 3 مزید
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
-
موضوعات: مشہور اشعاراور 2 مزید
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
-
موضوعات: اداسیاور 4 مزید
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
-
موضوعات: جگجیت سنگھاور 1 مزید
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے
ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
-
موضوعات: آہاور 1 مزید
جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں جدائی کا لمحہ بھر کا صدمہ بیان ہوا ہے کہ محبوب کے پہلو سے اٹھتے ہی درد اندر سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ “اٹھنا” یہاں جسمانی حرکت کے ساتھ دل کے درد کے جاگنے کی علامت ہے۔ جذبہ بے بسی ہے: چاہ کر بھی دل اپنے ردِّعمل کو روک نہیں پاتا۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں جدائی کا لمحہ بھر کا صدمہ بیان ہوا ہے کہ محبوب کے پہلو سے اٹھتے ہی درد اندر سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ “اٹھنا” یہاں جسمانی حرکت کے ساتھ دل کے درد کے جاگنے کی علامت ہے۔ جذبہ بے بسی ہے: چاہ کر بھی دل اپنے ردِّعمل کو روک نہیں پاتا۔
مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا
جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے
-
موضوعات: درداور 1 مزید
ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا
دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے
-
موضوعات: درداور 1 مزید