کتاب پر ۲۰ بہترین اشعار
کتاب کو مرکز میں رکھ
کر کی جانے والی شاعری کے بہت سے پہلو ہیں ۔ کتاب محبوب کے چہرے کی تشبیہ میں بھی کام آتی ہے اورعام انسانی زندگی میں روشنی کی ایک علامت کے طور پر بھی۔ ۔ کتاب کے اس حیرت کدے میں داخل ہوئیے اٹھائیے۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
-
موضوعات: علماور 2 مزید
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
-
موضوعات: ترغیبیاور 2 مزید
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ علم اپنے اندر سرور رکھتا ہے، لیکن شاعر اسے مکمل نجات یا کامل مسرت نہیں مانتا۔ “جنت” اور “حور” کا استعارہ بتاتا ہے کہ محض عقلی خوشی میں دل کی پوری پیاس نہیں بجھتی۔ اصل کیفیت یہ ہے کہ علم مفید ہے، مگر محبت/روحانیت/حسن کی گرمی کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ علم اپنے اندر سرور رکھتا ہے، لیکن شاعر اسے مکمل نجات یا کامل مسرت نہیں مانتا۔ “جنت” اور “حور” کا استعارہ بتاتا ہے کہ محض عقلی خوشی میں دل کی پوری پیاس نہیں بجھتی۔ اصل کیفیت یہ ہے کہ علم مفید ہے، مگر محبت/روحانیت/حسن کی گرمی کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔
-
موضوع: علم
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں محض مطالعے اور حقیقی فہم میں فرق دکھاتے ہیں۔ “کتاب” علم و ہدایت کی علامت ہے؛ “کتاب خواں” وہ ہے جو لفظوں میں اُلجھا رہے۔ “صاحبِ کتاب” نہ ہونا اس طرف اشارہ ہے کہ علم ابھی کردار اور شعور میں نہیں ڈھلا۔ شعر کا درد یہ ہے کہ صرف پڑھ لینا کافی نہیں، علم کو اپنا بنانا اور جینا ضروری ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں محض مطالعے اور حقیقی فہم میں فرق دکھاتے ہیں۔ “کتاب” علم و ہدایت کی علامت ہے؛ “کتاب خواں” وہ ہے جو لفظوں میں اُلجھا رہے۔ “صاحبِ کتاب” نہ ہونا اس طرف اشارہ ہے کہ علم ابھی کردار اور شعور میں نہیں ڈھلا۔ شعر کا درد یہ ہے کہ صرف پڑھ لینا کافی نہیں، علم کو اپنا بنانا اور جینا ضروری ہے۔
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں زندگی بھر کی تلاش کا حاصل ایک تلخ سچ ہے: آدمی آخرکار اپنی نادانی کو پہچانتا ہے۔ “ہائے” حسرت اور دکھ کو نمایاں کرتا ہے کہ اعتماد اور گمان وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے۔ دوسری مصرع میں “عمر” اس دیر سے آنے والی بصیرت کی علامت ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ دانائی کے نام پر بس انکساری ہاتھ آئی۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں زندگی بھر کی تلاش کا حاصل ایک تلخ سچ ہے: آدمی آخرکار اپنی نادانی کو پہچانتا ہے۔ “ہائے” حسرت اور دکھ کو نمایاں کرتا ہے کہ اعتماد اور گمان وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے۔ دوسری مصرع میں “عمر” اس دیر سے آنے والی بصیرت کی علامت ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ دانائی کے نام پر بس انکساری ہاتھ آئی۔
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
-
موضوعات: سوالاور 2 مزید
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں
-
موضوعات: روماناور 3 مزید
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس شعر میں علم اور عمل (آدمیت) کے فرق کو واضح کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محض علم حاصل کر لینا انسان کو اشرف نہیں بناتا، جس طرح طوطے کو بولنا سکھانے کے باوجود اس کی جبلت نہیں بدلتی۔ اصل اہمیت کتابی علم کی نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس شعر میں علم اور عمل (آدمیت) کے فرق کو واضح کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محض علم حاصل کر لینا انسان کو اشرف نہیں بناتا، جس طرح طوطے کو بولنا سکھانے کے باوجود اس کی جبلت نہیں بدلتی۔ اصل اہمیت کتابی علم کی نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کی ہے۔
رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا
پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں
-
موضوعات: صورتاور 1 مزید
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
-
موضوعات: خواباور 2 مزید