noImage

فردوس گیاوی

1954

علم کی ابتدا ہے ہنگامہ

علم کی انتہا ہے خاموشی

تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اسی عالم میں

بگڑے حالات غریبوں کے سنورتے ہیں کہیں

تمام عمر جو ہنستا ہی رہ گیا یارو

بلا کا درد تھا اس شخص کی کہانی میں

وہی جو دیتا ہے دنیا کو الجھنوں سے نجات

کبھی کبھی وہی الجھن میں ڈال دیتا ہے

میں ایک سنگ ہوں مجھ میں ہیں صورتیں پنہاں

مجھے تراشنے آذر تو سامنے آئے