ADVERTISEMENT

علم پر اشعار

علم کو موضوع بنانے والے

جن شعروں کا انتخاب یہاں پیش کیا جارہا ہے اس سے زندگی میں علم کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ ایسے پہلو بھی ان شعروں میں موجود ہیں جو علم کے موضوع کے سیاق میں بالکل نئے اوراچھوتے ہیں ۔ علم کے ذریعے پیدا ہونے والی منفیت پر عموما کم غور کیا جاتا ۔ یہ شاعری علم کے ڈسکورس کو ایک نئے ڈھنگ سے دیکھتی ہے اور ترتیب دیتی ہے ۔

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

اکبر الہ آبادی

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

علامہ اقبال

لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو

محمود ایاز
ADVERTISEMENT

علم کی ابتدا ہے ہنگامہ

علم کی انتہا ہے خاموشی

فردوس گیاوی

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

علامہ اقبال

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

خمارؔ بارہ بنکوی

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

ماہر القادری
ADVERTISEMENT

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

میر تقی میر

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ

دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا

عبد الحمید عدم

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

چکبست برج نرائن
ADVERTISEMENT

عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا

جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا

اکبر الہ آبادی

مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا

مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے

لیاقت جعفری

ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا

انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

جگن ناتھ آزاد

جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا

فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا

اقبال عظیم
ADVERTISEMENT

وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر

میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

منیر نیازی

جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن

صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے

عبد العزیز خالد