موت پر ۲۰ بہترین اشعار
موت ایک ایسا معمہ ہے
جو نہ سمجھنے کا ہے اور نہ سمجھانے کا۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں سب سے زیادہ ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بےاننت اداسی اور مایوسی ہے ۔ یہاں ہم موت پر اردو شاعری سے کچھ بہترین اشعار پیش کر رہے ہیں۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
-
موضوعات: خراجاور 2 مزید
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر فلسفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے، غم ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی خود ایک قید ہے۔ انسان کے لیے غم سے مکمل رہائی صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے سکون کی امید عبث ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر فلسفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے، غم ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی خود ایک قید ہے۔ انسان کے لیے غم سے مکمل رہائی صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے سکون کی امید عبث ہے۔
-
موضوعات: زندگیاور 2 مزید
موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے یہاں انسانی کرب کی انتہا بیان کی ہے جہاں زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کا انتظار اور اس کی شدید خواہش ہی ایک عذاب بن گئی ہے، گویا وہ جیتے جی مر رہا ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ موت کے آثار تو نظر آتے ہیں مگر وہ حتمی نجات نہیں ملتی جو سانسوں کا سلسلہ ختم کر دے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے یہاں انسانی کرب کی انتہا بیان کی ہے جہاں زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کا انتظار اور اس کی شدید خواہش ہی ایک عذاب بن گئی ہے، گویا وہ جیتے جی مر رہا ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ موت کے آثار تو نظر آتے ہیں مگر وہ حتمی نجات نہیں ملتی جو سانسوں کا سلسلہ ختم کر دے۔
-
موضوعات: آرزواور 1 مزید
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
-
موضوعات: دریااور 2 مزید
کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں
زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
-
موضوعات: بہانہاور 3 مزید
زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے
موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں
-
موضوعات: زندگیاور 2 مزید
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ
موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں
-
موضوعات: حادثہاور 2 مزید
کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت
کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا
-
موضوعات: دنیااور 1 مزید
چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی
خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
-
موضوع: موت