Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

موت پر ۲۰ بہترین اشعار

موت ایک ایسا معمہ ہے

جو نہ سمجھنے کا ہے اور نہ سمجھانے کا۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں سب سے زیادہ ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بےاننت اداسی اور مایوسی ہے ۔ یہاں ہم موت پر اردو شاعری سے کچھ بہترین اشعار پیش کر رہے ہیں۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر فلسفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے، غم ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی خود ایک قید ہے۔ انسان کے لیے غم سے مکمل رہائی صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے سکون کی امید عبث ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر فلسفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے، غم ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی خود ایک قید ہے۔ انسان کے لیے غم سے مکمل رہائی صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے سکون کی امید عبث ہے۔

مرزا غالب

موت کا بھی علاج ہو شاید

زندگی کا کوئی علاج نہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔

فراق گورکھپوری

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

ثاقب لکھنوی

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

رحمان فارس

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے یہاں انسانی کرب کی انتہا بیان کی ہے جہاں زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کا انتظار اور اس کی شدید خواہش ہی ایک عذاب بن گئی ہے، گویا وہ جیتے جی مر رہا ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ موت کے آثار تو نظر آتے ہیں مگر وہ حتمی نجات نہیں ملتی جو سانسوں کا سلسلہ ختم کر دے۔

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے یہاں انسانی کرب کی انتہا بیان کی ہے جہاں زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کا انتظار اور اس کی شدید خواہش ہی ایک عذاب بن گئی ہے، گویا وہ جیتے جی مر رہا ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ موت کے آثار تو نظر آتے ہیں مگر وہ حتمی نجات نہیں ملتی جو سانسوں کا سلسلہ ختم کر دے۔

مرزا غالب

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

احمد ندیم قاسمی

کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں

زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ

Interpretation: Rekhta AI

شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔

فراق گورکھپوری

جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں

خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

نظیر صدیقی

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

رئیس فروغ

مری نماز جنازہ پڑھی ہے غیروں نے

مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے

نامعلوم

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

جگر مراد آبادی

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت

آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

احمد امیٹھوی

زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے

موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں

امن لکھنوی

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ

موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

جگر مراد آبادی

گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں

چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا

زیب غوری

رات خواب میں میں نے اپنی موت دیکھی تھی

اتنے رونے والوں میں تم نظر نہیں آئے

اقبال متین

کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت

کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا

احمد مشتاق

چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی

خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

اکبر حیدرآبادی
بولیے