Khalid Sharif's Photo'

خالد شریف

1947 | پاکستان

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ

چاند کمرے میں مرے اترا ہے

آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ

سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے

کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے

اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا

دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

زخم رسنے لگا ہے پھر شاید

یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں

تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں