Khalid Sharif's Photo'

خالد شریف

1947 | پاکستان

تخلص : 'خالد شریف'

اصلی نام : خالد شریف

پیدائش : 18 Jun 1947 | انبالہ, ہریانہ

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک جناب محترم خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے بزرگ کاروبار اور کاشتکاری سے منسلک تھے، جو تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی آ گئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ مشن ہائی اسکول راولپنڈی سے میٹرک کرنے والے خالد شریف ابتدا سے ہی اردو اور فارسی کے مضامین میں دلچسپی لینے لگے۔ آٹھویں، نویں جماعت تک وہ حافظ، رومی اور سعدی جیسے شعراء کو پڑھ چکے تھے۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں انہیں فارسی کے بہت اچھے استاد ملے، جن میں انور علی بخش اور عتیق الرحمان شامل ہیں۔ اردو اور فارسی ادب سے فطری لگائو کی وجہ سے ان کی ادبی ذوق کی تربیت ہوئی۔ طلبہ کے مابین ہونے والے شاعری کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا، ان میں پذیرائی ملی تو شاعری کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کیا۔

1967ء میں اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور سول سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انکم ٹیکس کے محکمے میں ملازمت اختیار کر لی- مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں۔ لیکن ملازمت شاید ان کے مزاج کے مطابق نہ تھی۔سو انہوں نے کاروبار کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا۔ 1970ء میں اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ آج جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے، اس میں ان کی برسوں کی محنت شامل ہے۔

خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کے درجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں۔ اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

موضوعات