Ahmad Mushtaq's Photo'

پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف

پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف

احمد مشتاق کے اشعار

27.2K
Favorite

باعتبار

تو اگر پاس نہیں ہے کہیں موجود تو ہے

تیرے ہونے سے بڑے کام ہمارے نکلے

ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا

اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں

اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل

وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی

پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے

یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے

لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

عشق میں کون بتا سکتا ہے

کس نے کس سے سچ بولا ہے

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے

اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے

وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا

وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے کوئی

کیا ترے اشکوں سے یہ جنگل ہرا ہو جائے گا

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

بھول گئی وہ شکل بھی آخر

کب تک یاد کوئی رہتا ہے

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

اسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں

میں نے کہا کہ دیکھ یہ میں یہ ہوا یہ رات

اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

تشریح

احمد مشتاق کا یہ شعر مضمون کی ندرت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔ احمد مشتاق کا امتیاز و اختصاص یہ ہے کہ وہ نہایت سیدھے سادے اور عام تجربات اور مشاہدات کو کچھ اس طرح شعری پیکر میں ڈھالتے ہیں کہ عقل حیران ہوجاتی ہے۔ اس شعر میں دو کردار ہیں اور دونوں کے بیچ ایک چھوٹا سا مکالمہ بھی ہے۔ اگر شعر کے تلازمات میں خود شعری کردار، ہوا اور رات نہ ہوتے تو شعری کردار کی حیثیت اکہری ہو کر رہ جاتی۔ مگر رات اور ہوا کی مدد سے جو پیکر بنایا گیا ہے اس سے شعری کردار کی حیثیت عاشق کی ہوجاتی ہے۔ لیکن عاشق و معشوق دونوں کی حیثیت مختلف ہے۔ عاشق جہاں اپنے آپ کو مناظر فطرت کا ایک حصہ مان کر اپنی محبوبہ سے اس طرف متوجہ ہونے کو کہتا ہے وہیں محبوبہ اس قدر عملی یعنیPracticalہے کہ اسے ایسے رومان انگیز ماحول میں بھی اپنی پڑھائی یاد آجاتی ہیں۔ یہاں احمد فراز کا یہ شعر یاد آجاتا ہے؎

ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں

وہ ایک شخص کہ شاعر بنا گیا مجھ کو

زیرِ نظر شعر میں شعری کردار کی رومانی فطرت کا جب زندگی کی ٹھوس حقیقت سے سروکار رکھنے والے معشوق سے ٹکراؤ ہوجاتا ہے تو ایک المناک صورت شعر کے آہنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ شعری کردار جب یہ کہتا ہے کہ ’میں نے کہا کہ دیکھ‘ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی باتوں میں محبوب کو کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اکتا کر اٹھنے لگتا ہے۔ تب شعری کردار پہلے خودمتعجب ہوا اور پھر رات کو دیکھنے کے لئے کہتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس کے محبوب کو پڑھائی کا وقت یاد آجاتا ہے

شفق سوپوری

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی

میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا

ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔ

ہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے

اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں

کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں

ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے

وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

تشریح

یہ شعر احمد مشتاق کے بہترین اشعار میں سے ایک ہے۔ شاعر نے الفاظ سے جو کیفیت پیدا کی ہے اس کا جواب نہیں۔ اس میں سوچ کی مناسبت سے گم اور دونوں کی رعایت سے دھیان نے مضمون میں جان ڈال دی ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے ملنے جاتے ہیں مگر ان کا محبوب کسی سوچ میں گم بیٹھا ہے۔ چنانچہ شاعر اپنے محبوب کو اس حال میں دیکھ کر واپس چلے آتے ہیں کیونکہ انہیں محبوب کا اپنے دھیان میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ اس شعر میں عشق کی شدت کا احساس ہوتا ہے۔ کوئی عام مزاج کا عاشق ہوتا تو اپنے محبوب سے وصل کا موقع اس بات پر نہیں گنواتا کہ اس کا محبوب اپنے دھیان میں گم ہے۔ مگر یہاں عاشق کو اپنے محبوب کی یہ ادا بھی پسند آتی ہے اور وہ اپنے محبوب کو دھیان کی حالت میں چھوڑ کر واپس چلا آتا۔

شفق سوپوری

تو نے ہی تو چاہا تھا کہ ملتا رہوں تجھ سے

تیری یہی مرضی ہے تو اچھا نہیں ملتا

موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی

زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے

عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

گم رہا ہوں ترے خیالوں میں

تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا

آنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گا

بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی

مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے میں

کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا

ہوتی ہے شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے

یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے

دکھ کے سفر پہ دل کو روانہ تو کر دیا

اب ساری عمر ہاتھ ہلاتے رہیں گے ہم

وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا

اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی

وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو

کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں

مجھے معلوم ہے اہل وفا پر کیا گزرتی ہے

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی

دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے

کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت

کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا

جب شام اترتی ہے کیا دل پہ گزرتی ہے

ساحل نے بہت پوچھا خاموش رہا پانی

نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈھتا ہوا

شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن

عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے

گزرے ہزار بادل پلکوں کے سائے سائے

اترے ہزار سورج اک شہ نشین دل پر

جیسے پو پھٹ رہی ہو جنگل میں

یوں کوئی مسکرائے جاتا ہے

ملنے کی یہ کون گھڑی تھی

باہر ہجر کی رات کھڑی تھی

ارے کیوں ڈر رہے ہو جنگل سے

یہ کوئی آدمی کی بستی ہے

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ

آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

وہاں سلام کو آتی ہے ننگے پاؤں بہار

کھلے تھے پھول جہاں تیرے مسکرانے سے

چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے

مجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلے

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے

اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوں

گئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے