تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

احمد مشتاق

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

احمد مشتاق

MORE BY احمد مشتاق

    تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

    تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں

    ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیں

    میں ان کمروں میں پھر شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں

    عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے

    تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں

    سحر دم کرچیاں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ملتی ہیں

    تو بستر جھاڑ کر چادر ہٹا کر دیکھ لیتا ہوں

    بہت دل کو دکھاتا ہے کبھی جب درد مہجوری

    تری یادوں کی جانب مسکرا کر دیکھ لیتا ہوں

    اڑا کر رنگ کچھ ہونٹوں سے کچھ آنکھوں سے کچھ دل سے

    گئے لمحوں کو تصویریں بنا کر دیکھ لیتا ہوں

    نہیں ہو تم بھی وہ اب مجھ سے یارو کیا چھپاؤ گے

    ہوا کی سمت کو مٹی اڑا کر دیکھ لیتا ہوں

    سنا ہے بے نیازی ہی علاج ناامیدی ہے

    یہ نسخہ بھی کوئی دن آزما کر دیکھ لیتا ہوں

    محبت مر گئی مشتاقؔ لیکن تم نہ مانو گے

    میں یہ افواہ بھی تم کو سنا کر دیکھ لیتا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY