Ahmad Mushtaq's Photo'

پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف

پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف

احمد مشتاق کے آڈیو

غزل

اب منزل_صدا سے سفر کر رہے ہیں ہم

نعمان شوق

اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں

نعمان شوق

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

نعمان شوق

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں_گے ہم

نعمان شوق

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں_گے ہم

نعمان شوق

برس کر کھل گیا ابر_خزاں آہستہ آہستہ

نعمان شوق

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

نعمان شوق

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے_گا

نعمان شوق

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا

نعمان شوق

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

نعمان شوق

تھا مجھ سے ہم_کلام مگر دیکھنے میں تھا

نعمان شوق

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں

نعمان شوق

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں

نعمان شوق

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

نعمان شوق

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے

نعمان شوق

دنیا میں سراغ_رہ_دنیا نہیں ملتا

نعمان شوق

رات پھر رنگ پہ تھی اس کے بدن کی خوشبو

نعمان شوق

رخصت_شب کا سماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

نعمان شوق

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا

نعمان شوق

شام_غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں

نعمان شوق

عشق میں کون بتا سکتا ہے

نعمان شوق

عشق میں کون بتا سکتا ہے

فہد حسین

لے کے ہمراہ چھلکتے ہوئے پیمانے کو

نعمان شوق

مجھے اس نے تری خبر دی ہے

نعمان شوق

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے_گا

نعمان شوق

مل ہی جائے_گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

نعمان شوق

منظر_صبح دکھانے اسے لایا نہ گیا

نعمان شوق

مونس_دل کوئی نغمہ کوئی تحریر نہیں

نعمان شوق

کھڑے ہیں دل میں جو برگ_و_ثمر لگائے ہوئے

نعمان شوق

کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی

نعمان شوق

کیسے انہیں بھلاؤں محبت جنہوں نے کی

نعمان شوق

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

نعمان شوق

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے

نعمان شوق

ہمیں سب اہل_ہوس ناپسند رکھتے ہیں

نعمان شوق

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

نعمان شوق

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

نعمان شوق

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

نعمان شوق

یہ ہم غزل میں جو حرف_و_بیاں بناتے ہیں

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے