آرزو پر شاعری

آرزو آرزو ہی رہتی ہے ۔ اسی میں اس کا حسن بھی ہے اور اس کا وجود بھی ۔ ہر انسان آرزوئیں پالتا ہے ،زندگی بھر ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور انہیں آرزوؤں کے ساتھ آنکھیں بند کر لیتا ہے لیکن اس درمیانی عرصے میں وہ جن کیفیات سے گزرتا ہے اور جن کھٹے میٹھے لمحوں کو جیتا ہے وہ لازوال بھی ہیں اور زندگی کا حاصل بھی ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ کو ان لمحوں اور ان کیفیتوں کا احساس بھی ہوگا اور آرزوؤں کی ایک بڑی دنیا کا ادراک بھی ۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

I have a thousand yearnings , each one afflicts me so

Many were fulfilled for sure, not enough although

مرزا غالب

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

بشیر بدر

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا

مجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

بشریٰ اعجاز

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں

دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

کیفی اعظمی

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

I had hoped she would unveil at her own behest

and she waits for someone to make a request

اسرار الحق مجاز

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم

وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

فیض احمد فیض

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

I die yearning as I hope for death

Death does come to me but then not quite

مرزا غالب

آرزو تیری برقرار رہے

دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

حسرتؔ موہانی

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

ظفر اقبال

ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریں

دنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیا

حسرتؔ موہانی

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

مجروح سلطانپوری

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

عمران الحق چوہان

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے

بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

ناصر کاظمی

غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ

یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے

اختر شیرانی

تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی

مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

بشیر بدر

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

احمد فراز

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر

آرزو کی آرزو ہونے لگی

داغؔ دہلوی

کٹتی ہے آرزو کے سہارے پہ زندگی

کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے

شاد عارفی

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

سرور عالم راز

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اختر شیرانی

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو

جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

جلیل مانک پوری

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

لالہ مادھو رام جوہر

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے

ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے

حیدر علی آتش

ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں

سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا

I'm fearful when I see this heart so hopeless and forlorn

why shouldn't this home be desolate, as the guest has gone

داغؔ دہلوی

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

even after death my love did not forsake

at my grave my desires kept a steady wake

امیر مینائی

تجھ سے سو بار مل چکے لیکن

تجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی

جلیل مانک پوری

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

خلیل الرحمن اعظمی

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں

ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

غلام محمد قاصر

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی

سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

عبید اللہ علیم

کیا وہ خواہش کہ جسے دل بھی سمجھتا ہو حقیر

آرزو وہ ہے جو سینہ میں رہے ناز کے ساتھ

اکبر الہ آبادی

وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا

اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی

احمد مشتاق

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ

آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

جلیل مانک پوری

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی

جلالؔ مانکپوری

کھل گیا ان کی آرزو میں یہ راز

زیست اپنی نہیں پرائی ہے

شکیل بدایونی

بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

عباس رضوی

تمنا تری ہے اگر ہے تمنا

تری آرزو ہے اگر آرزو ہے

خواجہ میر درد

اس لئے آرزو چھپائی ہے

منہ سے نکلی ہوئی پرائی ہے

قمر جلالوی

خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو

ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا

اسماعیل میرٹھی

کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیا

یوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں

اسعد بدایونی

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

تلوک چند محروم

مدعا دور تک گیا لیکن

آرزو لوٹ کر نہیں آئی

عبد الحمید عدم

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے

آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

my love beside me, solitude, tell them to play a part

why do my desires cower hidden in my heart

امیر مینائی

ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو

میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

سیماب اکبرآبادی

ملو ملو نہ ملو اختیار ہے تم کو

اس آرزو کے سوا اور آرزو کیا ہے

مبارک عظیم آبادی

لطف دونا ہو جو دونوں گھر مرے آباد ہوں

تو رہے پہلو میں تیری آرزو دل میں رہے

جلیل مانک پوری

مدت سے آرزو ہے خدا وہ گھڑی کرے

ہم تم پئیں جو مل کے کہیں ایک جا شراب

شیخ ظہور الدین حاتم