Nazeer Siddiqui's Photo'

نظیر صدیقی

1930 - 2001 | اسلام آباد, پاکستان

نظیر صدیقی کی اشعار

جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں

خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

کسی کی مہربانی سے محبت مطمئن کیا ہو

محبت تو محبت سے بھی آسودہ نہیں ہوتی

آئے تو دل تھا باغ باغ اور گئے تو داغ داغ

کتنی خوشی وہ لائے تھے کتنا ملال دے گئے

رات سے شکایت کیا بس تمہیں سے کہنا ہے

تم ذرا ٹھہر جاؤ رات کب ٹھہرتی ہے

اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش

مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انساں کی تلاش

ہم سے شکایتیں بجا ہم کو بھی ہے مگر گلہ

پہلے سے ہم نہیں اگر پہلے سے آپ بھی نہیں

ابھی سے وہ دامن چھڑانے لگے ہو

جو اب تک مرے ہاتھ آیا نہیں ہے

جس درجہ نیک ہونے کی ملتی رہی ہے داد

اس درجہ نیک بننے کا ارماں کبھی نہ تھا