خراج پر شاعری

اچھے لوگ کبھی نہیں مرتے وہ اپنی مادی جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دلوں میں ہمیشہ گھر کئے رہتی ہیں اور ہم انہیں وقتا فوقتا یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی شعر پیش کر رہے ہیں جو گزرے ہوؤں کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کی مختلف صورتوں ، جذبوں اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

جون ایلیا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

علامہ اقبال

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میر تقی میر

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

کیفی اعظمی

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

رحمان فارس

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

پروین شاکر

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

رئیس فروغ

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

اختر نظمی

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

حیدر علی آتش

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

محمود رامپوری

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

سکندر علی وجد

جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی

کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں

مخمور دہلوی

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

مرزا غالب

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

الطاف حسین حالی

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

سرور بارہ بنکوی

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

محمد رفیع سودا

وہ اب وہاں ہے جہاں راستے نہیں جاتے

میں جس کے ساتھ یہاں پچھلے سال آیا تھا

بشیر بدر

جھونکے نسیم خلد کے ہونے لگے نثار

جنت کو اس گلاب کا تھا کب سے انتظار

خالد مینائی