ادا پر منتخب اشعار
حسن کی ساری نزاکت اداؤں
سے ہی ہے اور یہی ادائیں عاشق کیلئے جان لیوا ہوتی ہیں ۔ محبوب کے دیکھنے ،مسکرانے ، چلنے ، بات کرنے ، اورخاموش رہنے کی اداؤں کا بیان شاعری کا ایک اہم باب ہے ۔ ہم اچھے شعروں کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔
-
موضوعات: ادااور 2 مزید
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
-
موضوعات: ادااور 1 مزید
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا
بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
-
موضوعات: ادااور 3 مزید
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ حسن کی مختلف صورتیں—پھول، چاند، آئینہ اور سورج جیسی چمک—اپنی جگہ، مگر محبوب ہونے کے لیے صرف خوب صورتی کافی نہیں۔ اصل کسوٹی ‘ادا’ ہے: وہ دل نشیں انداز، نزاکت اور جاذبیت جو شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔ اسی لیے محبوب وہی ٹھہرتا ہے جس کے طور طریقے میں کشش ہو۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ حسن کی مختلف صورتیں—پھول، چاند، آئینہ اور سورج جیسی چمک—اپنی جگہ، مگر محبوب ہونے کے لیے صرف خوب صورتی کافی نہیں۔ اصل کسوٹی ‘ادا’ ہے: وہ دل نشیں انداز، نزاکت اور جاذبیت جو شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔ اسی لیے محبوب وہی ٹھہرتا ہے جس کے طور طریقے میں کشش ہو۔
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ
-
موضوعات: انگڑائیاور 3 مزید
ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر نے یہاں محبوب کے حسن اور نفاست کو پھول سے افضل قرار دیا ہے۔ ذوقؔ کہتے ہیں کہ پھول کا اپنی نزاکت پر اترانا محض اس کی کم علمی ہے، کیونکہ اگر وہ محبوب کے ناز و انداز دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ حقیقی نزاکت کسے کہتے ہیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر نے یہاں محبوب کے حسن اور نفاست کو پھول سے افضل قرار دیا ہے۔ ذوقؔ کہتے ہیں کہ پھول کا اپنی نزاکت پر اترانا محض اس کی کم علمی ہے، کیونکہ اگر وہ محبوب کے ناز و انداز دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ حقیقی نزاکت کسے کہتے ہیں۔