Arzoo Lakhnavi's Photo'

آرزو لکھنوی

1873 - 1951 | کراچی, پاکستان

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

8.64K
Favorite

باعتبار

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح

زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

بری سرشت نہ بدلی جگہ بدلنے سے

چمن میں آ کے بھی کانٹا گلاب ہو نہ سکا

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی

جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف

ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ

جو دل رکھتے ہیں سینے میں وہ کافر ہو نہیں سکتے

محبت دین ہوتی ہے وفا ایمان ہوتی ہے

بھولے بن کر حال نہ پوچھ بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

اللہ اللہ حسن کی یہ پردہ داری دیکھیے

بھید جس نے کھولنا چاہا وہ دیوانہ ہوا

وفا تم سے کریں گے دکھ سہیں گے ناز اٹھائیں گے

جسے آتا ہے دل دینا اسے ہر کام آتا ہے

بھولی باتوں پہ تیری دل کو یقیں

پہلے آتا تھا اب نہیں آتا

دفعتاً ترک تعلق میں بھی رسوائی ہے

الجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور

خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے

پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے

جھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے

خموشی میری معنی خیز تھی اے آرزو کتنی

کہ جس نے جیسا چاہا ویسا افسانہ بنا ڈالا

دل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرار

کل یہ کچھ اور کہے گا مجھے معلوم نہ تھا

تیرے تو ڈھنگ ہیں یہی اپنا بنا کے چھوڑ دے

وہ بھی برا ہے باؤلا تجھ کو جو پا کے چھوڑ دے

کہہ کے یہ اور کچھ کہا نہ گیا

کہ مجھے آپ سے شکایت ہے

محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے

بڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے

جس قدر نفرت بڑھائی اتنی ہی قربت بڑھی

اب جو محفل میں نہیں ہے وہ تمہارے دل میں ہے

محبت وہیں تک ہے سچی محبت

جہاں تک کوئی عہد و پیماں نہیں ہے

کچھ تو مل جائے لب شیریں سے

زہر کھانے کی اجازت ہی سہی

آرزوؔ جام لو جھجک کیسی

پی لو اور دہشت گناہ گئی

دو تند ہواؤں پر بنیاد ہے طوفاں کی

یا تم نہ حسیں ہوتے یا میں نہ جواں ہوتا

دوست نے دل کو توڑ کے نقش وفا مٹا دیا

سمجھے تھے ہم جسے خلیل کعبہ اسی نے ڈھا دیا

کچھ کہتے کہتے اشاروں میں شرما کے کسی کا رہ جانا

وہ میرا سمجھ کر کچھ کا کچھ جو کہنا نہ تھا سب کہہ جانا

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر

اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

شوق چڑھتی دھوپ جاتا وقت گھٹتی چھاؤں ہے

با وفا جو آج ہیں کل بے وفا ہو جائیں گے

کس کام کی ایسی سچائی جو توڑ دے امیدیں دل کی

تھوڑی سی تسلی ہو تو گئی مانا کہ وہ بول کے جھوٹ گیا

خزاں کا بھیس بنا کر بہار نے مارا

مجھے دورنگئ لیل و نہار نے مارا

ہر نفس اک شراب کا ہو گھونٹ

زندگانی حرام ہے ورنہ

معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے

دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے

جو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہ

سمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ

کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا

لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی

یہ گل کھل رہا ہے وہ مرجھا رہا ہے

اثر دو طرح کے ہوا ایک ہی ہے

ہم کو اتنا بھی رہائی کی خوشی میں نہیں ہوش

ٹوٹی زنجیر کہ خود پاؤں ہمارا ٹوٹا

برسوں بھٹکا کیا اور پھر بھی نہ ان تک پہنچا

گھر تو معلوم تھا رستہ مجھے معلوم نہ تھا

راہ بر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں

چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا

ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ

کس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ

جو کان لگا کر سنتے ہیں کیا جانیں رموز محبت کے

اب ہونٹ نہیں ہلنے پاتے اور پہروں باتیں ہوتی ہیں

نظر بچا کے جو آنسو کئے تھے میں نے پاک

خبر نہ تھی یہی دھبے بنیں گے دامن کے

جواب دینے کے بدلے وہ شکل دیکھتے ہیں

یہ کیا ہوا میرے چہرے کو عرض حال کے بعد

وائے غربت کہ ہوئے جس کے لئے خانہ خراب

سن کے آواز بھی گھر سے نہ وہ باہر نکلا

خموش جلنے کا دل کے کوئی گواہ نہیں

کہ شعلہ سرخ نہیں ہے دھواں سیاہ نہیں

سکون دل نہیں جس وقت سے اس بزم میں آئے

ذرا سی چیز گھبراہٹ میں کیا جانے کہاں رکھ دی

مجھے رہنے کو وہ ملا ہے گھر کہ جو آفتوں کی ہے رہ گزر

تمہیں خاکساروں کی کیا خبر کبھی نیچے اترے ہو بام سے

اپنی اپنی گردش رفتار پوری کر تو لیں

دو ستارے پھر کسی دن ایک جا ہو جائیں گے

دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے

تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے

دھارے سے کبھی کشتی نہ ہٹی اور سیدھی گھاٹ پر آ پہنچی

سب بہتے ہوئے دریاؤں کے کیا دو ہی کنارے ہوتے ہیں

چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی

کیا کس نے کہی کیا تو نے سنی یہ بات زمانہ کیا جانے

حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہے

شمع کی شعلہ جب لہرائی اڑ کے چلا پروانہ بھی

سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے

شعلے کو بند کر کے پانی بنا رہے ہیں