Jagan Nath Azad's Photo'

جگن ناتھ آزاد

1918 - 2004 | دلی, ہندوستان

اہم اسکالر اور شاعر ، پاکستان کا پہلا قومی ترانہ لکھا

اہم اسکالر اور شاعر ، پاکستان کا پہلا قومی ترانہ لکھا

617
Favorite

باعتبار

کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والے

کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا

انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجود

میں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستو

سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والے

یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا

میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود

بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیا

تم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھا

اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاس

ہر در پہ دی صدا ترے در کے خیال میں

بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیں

یہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپنا

بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینا

بتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزری

چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابل

آزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہم

اس سے زیادہ دور جنوں کی خبر نہیں

کچھ بے خبر سے آپ تھے کچھ بے خبر سے ہم

تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والو

سحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزری

نیند کیا ہے ذرا سی دیر کی موت

موت کیا کیا ہے تمام عمر کی نیند

اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئی

اے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاں