Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khumar Barabankavi's Photo'

خمار بارہ بنکوی

1919 - 1999 | بارہ بنکی, انڈیا

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

خمار بارہ بنکوی کے اشعار

58K
Favorite

باعتبار

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم

قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا

دوستوں کو آزماتے جائیے

یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو

یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے

فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے

محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر

کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھے

دوسروں پر اگر تبصرہ کیجئے

سامنے آئنہ رکھ لیا کیجئے

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس

سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی

وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔ

ناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیا

یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد

دوستوں کے کرم یاد آتے رہے

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم

کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ

کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

آج ناگاہ ہم کسی سے ملے

بعد مدت کے زندگی سے ملے

الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے

یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں

او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں

رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے

پھول کر لے نباہ کانٹوں سے

آدمی ہی نہ آدمی سے ملے

عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ

عقل کی سنیے دل کا کہا کیجئے

صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی

واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے

مرے راہ بر مجھ کو گمراہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

ہاتھ اٹھتا نہیں ہے دل سے خمارؔ

ہم انہیں کس طرح سلام کریں

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے

کٹ گئی عمر رات باقی ہے

یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پاؤں نازک

نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے

دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے

دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

روشنی کے لیے دل جلانا پڑا

کیسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

ہم پہ گزرا ہے وہ بھی وقت خمارؔ

جب شناسا بھی اجنبی سے ملے

مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہے

جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

مجھے کو محرومئ نظارہ قبول

آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی

یہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے

ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں

پھر اندھیرے کہاں قیام کریں

حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے

تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے

کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کے

وہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کے

جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں

سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے

اک گزارش ہے حضرت ناصح

آپ اب اور کوئی کام کریں

آپ نے دن بنا دیا تھا جسے

زندگی بھر وہ رات یاد آئی

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے