وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

خمارؔ بارہ بنکوی

وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

خمارؔ بارہ بنکوی

MORE BY خمارؔ بارہ بنکوی

    وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

    زندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعد

    دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد

    آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد

    روشنی کے لیے دل جلانا پڑا

    ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

    جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب

    وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد

    دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا

    دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

    رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا

    ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد

    بخش دے یا رب اہل ہوس کو بہشت

    مجھ کو کیا چاہئے تجھ کو پانے کے بعد

    کیسے کیسے گلے یاد آئے خمارؔ

    ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY