Bashir Badr's Photo'

بشیر بدر

1935 - | بھوپال, ہندوستان

مقبول شاعر ، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ اور پدم شری

مقبول شاعر ، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ اور پدم شری

آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

عاشقی میں بہت ضروری ہے

بے وفائی کبھی کبھی کرنا

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا

جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں

آتے ہیں مگر دل کو دکھانے نہیں آتے

عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں

میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

عجیب رات تھی کل تم بھی آ کے لوٹ گئے

جب آ گئے تھے تو پل بھر ٹھہر گئے ہوتے

عجیب شخص ہے ناراض ہو کے ہنستا ہے

میں چاہتا ہوں خفا ہو تو وہ خفا ہی لگے

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا

جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی

وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا

بہت دنوں سے ہے دل اپنا خالی خالی سا

خوشی نہیں تو اداسی سے بھر گئے ہوتے

بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام

مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے

اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے

نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

بھول شاید بہت بڑی کر لی

دل نے دنیا سے دوستی کر لی

بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں

کوئی آنسو گرا تھا یاد ہوگا

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مرے کاغذ پر

چھت پہ آ جاؤ مرا شعر مکمل کر دو

چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا

بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی

دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے

کچھ زہر بھی ہوتا ہے انگریزی دواؤں میں

دل کی بستی پرانی دلی ہے

جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے

اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے

دن میں پریوں کی کوئی کہانی نہ سن

جنگلوں میں مسافر بھٹک جائیں گے

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے

اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم

تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا

جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

گلے میں اس کے خدا کی عجیب برکت ہے

وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں گے

روئیں گے بہت لیکن آنسو نہیں آئیں گے

غزلوں نے وہیں زلفوں کے پھیلا دئیے سائے

جن راہوں پہ دیکھا ہے بہت دھوپ کڑی ہے

گھر نیا برتن نئے کپڑے نئے

ان پرانے کاغذوں کا کیا کریں

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

گفتگو ان سے روز ہوتی ہے

مدتوں سامنا نہیں ہوتا

daily I converse with her in my fantasy

very seldom is she ever face to face with me

daily I converse with her in my fantasy

very seldom is she ever face to face with me

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں

صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا

سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے

جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

ہم دلی بھی ہو آئے ہیں لاہور بھی گھومے

اے یار مگر تیری گلی تیری گلی ہے

ہم نے تو بازار میں دنیا بیچی اور خریدی ہے

ہم کو کیا معلوم کسی کو کیسے چاہا جاتا ہے

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

حقیقتوں میں زمانہ بہت گزار چکے

کوئی کہانی سناؤ بڑا اندھیرا ہے

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا

جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر میں

جو زندگی کو جیت لے وہ زندگی کا مرد ہے

ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں

عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا

اجازت ہو تو میں اک جھوٹ بولوں

مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی ہے

اک شام کے سائے تلے بیٹھے رہے وہ دیر تک

آنکھوں سے کی باتیں بہت منہ سے کہا کچھ بھی نہیں

اس شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں

یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے

اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں

تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

Added to your favorites

Removed from your favorites