Bashir Badr's Photo'

بشیر بدر

1935 - | بھوپال, ہندوستان

مقبول شاعر ، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ اور پدم شری

مقبول شاعر ، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ اور پدم شری

آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

عاشقی میں بہت ضروری ہے

بے وفائی کبھی کبھی کرنا

عجیب شخص ہے ناراض ہو کے ہنستا ہے

میں چاہتا ہوں خفا ہو تو وہ خفا ہی لگے

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں

انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں

کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

I want to speak only what's true

but courage fails, what can I do

I want to speak only what's true

but courage fails, what can I do

کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں

اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

خدا ایسے احساس کا نام ہے

رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

she would have had compulsions surely

faithless without cause no one can be

she would have had compulsions surely

faithless without cause no one can be

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

مجھ سے کیا بات لکھانی ہے کہ اب میرے لئے

کبھی سونے کبھی چاندی کے قلم آتے ہیں

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھو

مندروں میں چراغ جلتے ہیں

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

Added to your favorites

Removed from your favorites