ADVERTISEMENT

امن پر اشعار

شاعری کا ایک اہم ترین

کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بہت خاموشی سے ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی راہ پر لگا دیتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے ہم زندگی میں ہر طرح کی منفیت کو نکارنے لگتے ہیں۔ امن کے اس عنوان سے ہم آپ کے لیے کچھ ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو آپ کو ہر قسم کے خطرناک انسانی جذبات کی گرفت سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ یہ شاعری ہم سب کے لیےبہتر انسان بننے اور اپنی انا کو ختم کرنے کا ایک سبق بھی ہے اور دنیا میں امن و شانتی قائم کرنے کی کوشش میں لگے لوگوں کے لیے ایک چھوٹی سی گائڈ بک بھی۔ آپ اسے پڑھیے اور اس میں موجود پیغام کو عام کیجیے۔

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

بشیر بدر

اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر

چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

احمد فراز

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

جگر مراد آبادی

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

ساحر لدھیانوی
ADVERTISEMENT

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں

آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

بشیر بدر

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

ساحر لدھیانوی

حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی

نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

حفیظ جالندھری

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے

آدمی آدمی کو بھول گیا

جون ایلیا
ADVERTISEMENT

سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا

اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا

حفیظ بنارسی

مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے

میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

مرزا اطہر ضیا

یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے

علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

چرن سنگھ بشر

عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں

کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

ملک زادہ منظور احمد
ADVERTISEMENT

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

ظفر زیدی

امن تھا پیار تھا محبت تھا

رنگ تھا نور تھا نوا تھا فراق

حبیب جالب

ایک تختی امن کے پیغام کی

ٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ

عزیز نبیل

جنگ کا شور بھی کچھ دیر تو تھم سکتا ہے

پھر سے اک امن کی افواہ اڑا دی جائے

شاہد کمال
ADVERTISEMENT

سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے

وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا

فراغ روہوی

امن ہر شخص کی ضرورت ہے

اس لئے امن سے محبت ہے

نامعلوم

امن کا قتل ہو گیا جب سے

شہر اب بد حواس رہتا ہے

صابر شاہ صابر

فضا ی امن و اماں کی سدا رکھیں قائم

سنو ی فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی

نصرت مہدی
ADVERTISEMENT

مل کے سب امن و چین سے رہئے

لعنتیں بھیجئے فسادوں پر

ہیرا لال فلک دہلوی

کتنا پر امن ہے ماحول فسادات کے بعد

شام کے وقت نکلتا نہیں باہر کوئی

عشرت دھولپور

امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی

جب تلک ظلم و ستم موجود ہے

اقبال کیفی

شہر میں امن و اماں ہو یہ ضروری ہے مگر

حاکم وقت کے ماتھے پہ لکھا ہی کچھ ہے

شمیم قاسمی
ADVERTISEMENT

پرواز میں تھا امن کا معصوم پرندہ

سنتے ہیں کہ بے چارہ شجر تک نہیں پہنچا

کرامت بخاری

امن اور آشتی سے اس کو کیا

اس کا مقصد تو انتشار میں ہے

عزیز انصاری

خدائے امن جو کہتا ہے خود کو

زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے

ظفر صہبائی

رہے تذکرے امن کے آشتی کے

مگر بستیوں پر برستے رہے بم

انور شعور
ADVERTISEMENT

ہاں دل بے تاب چندے انتظار

امن و راحت کا ٹھکانہ اور ہے

اسماعیل میرٹھی

امن عالم کی خاطر

جنگ یگوں سے جاری ہے

اسلم حبیب

اپنے دیش میں گھر گھر امن ہے کہ جھگڑے ہیں

دیکھو روز ناموں کی سرخیاں بتائیں گی

بسمل نقشبندی

چلو امن و اماں ہے میکدے میں

وہیں کچھ پل ٹھہر کر دیکھتے ہیں

اختر شاہجہانپوری
ADVERTISEMENT

بادلوں نے آج برسایا لہو

امن کا ہر فاختہ رونے لگا

ظفر حمیدی

امن کے سارے سپنے جھوٹے

سپنوں کی تعبیریں جھوٹی

بقا بلوچ

معصوم ہے معصوم بہت امن کی دیوی

قبضہ میں لیے خنجر خوں خار ابھی تک

محمد عثمان عارف

بہ نام امن و اماں کون مارا جائے گا

نہ جانے آج یہاں کون مارا جائے گا

نسیم سحر

دھوپ کے سائے میں چپ سادھے ہوئے

کر رہے ہو امن کا اعلان کیا

عادل حیات

امن اور تیرے عہد میں ظالم

کس طرح خاک رہ گزر بیٹھے

قلق میرٹھی

امن پرچار تلک ٹھیک سہی لیکن امن

تم کو لگتا ہے کہ ہوگا نہیں ہونے والا

فصیح اللہ نقیب