noImage

اقبال کیفی

غزل 10

اشعار 11

امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی

جب تلک ظلم و ستم موجود ہے

گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا

کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا

خزاں کا دور بھی آتا ہے ایک دن کیفیؔ

سدا بہار کہاں تک درخت رہتے ہیں