noImage

اقبال کیفی

71
Favorite

باعتبار

گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا

کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا

امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی

جب تلک ظلم و ستم موجود ہے

خزاں کا دور بھی آتا ہے ایک دن کیفیؔ

سدا بہار کہاں تک درخت رہتے ہیں

دیکھا ہے محبت کو عبادت کی نظر سے

نفرت کے عوامل ہمیں معیوب رہے ہیں

یہی نہیں کہ نگاہوں کو اشک بار کیا

ترے فراق میں دامن بھی تار تار کیا

اٹے ہوئے ہیں فقیروں کے پیرہن کیفیؔ

جہاں نے بھیک میں مٹی بکھیر کر دی ہے

محبتوں کو بھی اس نے خطا قرار دیا

مگر یہ جرم ہمیں بار بار کرنا ہے

میں ایسے حسن ظن کو خدا مانتا نہیں

آہوں کے احتجاج سے جو ماورا رہے

پھولوں کا تبسم بھی وہ پہلا سا نہیں ہے

گلشن میں بھی چلتی ہے ہوا اور طرح کی

غزل کے رنگ میں ملبوس ہو کر

رباب درد سے آہنگ نکلا

افسوس معبدوں میں خدا بیچتے ہیں لوگ

اب معنیٔ سزا و جزا کچھ نہیں رہا