noImage

کیف احمد صدیقی

1943 - 1986 | سیتا پور, ہندوستان

271
Favorite

باعتبار

اک برس بھی ابھی نہیں گزرا

کتنی جلدی بدل گئے چہرے

محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں

جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا

آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے

دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں

تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے

ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں

آج پھر شاخ سے گرے پتے

اور مٹی میں مل گئے پتے

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر

راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے

کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی

جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا

خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے

وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے

کیفؔ کہاں تک تم خود کو بے داغ رکھو گے

اب تو ساری دنیا کے منہ پر سیاہی ہے

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے

ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے

آنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے

وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا

جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے

چمن میں شدت درد نمود سے غنچے

تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں