اعتبار ساجد کے اشعار

5K
Favorite

باعتبار

کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے

کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو

وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیں

دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کے

عجب نشہ ہے ترے قرب میں کہ جی چاہے

یہ زندگی تری آغوش میں گزر جائے

ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آ گئے

دیکھ تیرا قصر عالی شان خالی کر دیا

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیں

سب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئے

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے

ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا

کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔ

میں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں

گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر

اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ

رہا کر دے قفس کی قید سے گھایل پرندے کو

کسی کے درد کو اس دل میں کتنے سال پالے گا

میری پوشاک تو پہچان نہیں ہے میری

دل میں بھی جھانک مری ظاہری حالت پہ نہ جا

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں

کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں

جو مری شبوں کے چراغ تھے جو مری امید کے باغ تھے

وہی لوگ ہیں مری آرزو وہی صورتیں مجھے چاہئیں

جس کو ہم نے چاہا تھا وہ کہیں نہیں اس منظر میں

جس نے ہم کو پیار کیا وہ سامنے والی مورت ہے

تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھی

شکستہ آئینوں کو جوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

مختلف اپنی کہانی ہے زمانے بھر سے

منفرد ہم غم حالات لیے پھرتے ہیں

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے

دیئے منڈیر پہ رکھ آتے ہیں ہم ہر شام نہ جانے کیوں

شاید اس کے لوٹ آنے کا کچھ امکان ابھی باقی ہے

جدائیوں کی خلش اس نے بھی نہ ظاہر کی

چھپائے اپنے غم و اضطراب میں نے بھی

رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

اب اختتام باب ضروری سا ہو گیا

بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں

آ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیں

اتنا پسپا نہ ہو دیوار سے لگ جائے گا

اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد

مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے رنگ اتار دو

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ

لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ

مکینوں کے تعلق ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی

وگرنہ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے

غزل فضا بھی ڈھونڈتی ہے اپنے خاص رنگ کی

ہمارا مسئلہ فقط قلم دوات ہی نہیں

برسوں بعد ہمیں دیکھا تو پہروں اس نے بات نہ کی

کچھ تو گرد سفر سے بھانپا کچھ آنکھوں سے جان لیا

پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھے

رگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے

یہ جو پھولوں سے بھرا شہر ہوا کرتا تھا

اس کے منظر ہیں دل آزار کہیں اور چلیں