آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیا

اعتبار ساجد

آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیا

اعتبار ساجد

MORE BY اعتبار ساجد

    آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیا

    کل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیا

    ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آ گئے

    دیکھ تیرا قصر عالی شان خالی کر دیا

    دشمنوں نے شست باندھی خیمۂ امید پر

    دوستوں نے درۂ امکان خالی کر دیا

    بانٹنے نکلا ہے وہ پھولوں کے تحفے شہر میں

    اس خبر پر ہم نے بھی گلدان خالی کر دیا

    لے گیا وہ ساتھ اپنے دل کی ساری رونقیں

    کس قدر یہ شہر تھا گنجان خالی کر دیا

    ساری چڑیاں اڑ گئیں مجھ کو اکیلا چھوڑ کر

    میرے گھر کا صحن اور دالان خالی کر دیا

    ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے

    ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites