Ahmad Faraz's Photo'

احمد فراز

1931 - 2008 | اسلام آباد, پاکستان

بے انتہا مقبول پاکستانی شاعر، اپنی رومانی اوراحتجاجی شاعری کے لئے مشہور

بے انتہا مقبول پاکستانی شاعر، اپنی رومانی اوراحتجاجی شاعری کے لئے مشہور

احمد فراز کے شعر

220.3K
Favorite

باعتبار

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم

کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر

جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر

چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا

کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب

اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں

دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

تیری باتیں ہی سنانے آئے

دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ

کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے

تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا

تو محبت سے کوئی چال تو چل

ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ

چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا

سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی

میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی

ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے

اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو

آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں

عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا

عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا

اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا

کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا

کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں

کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر

یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے

کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست

فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا

یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے

سلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیوں ہے

زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا

لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر

احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں

اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔ

اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں

چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ

دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے