گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

احمد فراز

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

    مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا

    دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں

    اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

    ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود

    آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

    باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول

    شاخ سے بڑھ کر کف دل دار پر اچھا لگا

    کوئی مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے

    تیغ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

    ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر

    کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

    اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں

    اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

    میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ

    تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY