Zafar Iqbal's Photo'

ظفر اقبال

1933 | لاہور, پاکستان

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف ۔ رجحان سازشاعر

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف ۔ رجحان سازشاعر

اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دینا

پاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دینا

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں

رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات

جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی

عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

گھر نیا برتن نئے کپڑے نئے

ان پرانے کاغذوں کا کیا کریں

جیسی اب ہے ایسی حالت میں نہیں رہ سکتا

میں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتا

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا

میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر

خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا

کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

جب نظارے تھے تو آنکھوں کو نہیں تھی پروا

اب انہی آنکھوں نے چاہا تو نظارے نہیں تھے

تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیں

جو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ

بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر

وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت

وداع کرتی ہے روزانہ زندگی مجھ کو

میں روز موت کے منجدھار سے نکلتا ہوں

اس کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہ تھی مجھے

مصروف تھا میں کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود

وہ بہت چالاک ہے لیکن اگر ہمت کریں

پہلا پہلا جھوٹ ہے اس کو یقیں آ جائے گا

اپنے ہی سامنے دیوار بنا بیٹھا ہوں

ہے یہ انجام اسے رستے سے ہٹا دینے کا

بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند

وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا

میں کسی اور زمانے کے لیے ہوں شاید

اس زمانے میں ہے مشکل مرا ظاہر ہونا

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفرؔ

صاف پہچان لیا جاتا ہوں رویا ہوا میں

موت کے ساتھ ہوئی ہے مری شادی سو ظفرؔ

عمر کے آخری لمحات میں دولہا ہوا میں

یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائے

بات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائے

ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو

یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو

خرابی ہو رہی ہے تو فقط مجھ میں ہی ساری

مرے چاروں طرف تو خوب اچھا ہو رہا ہے

خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے

یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا

اٹھا سکتے نہیں جب چوم کر ہی چھوڑنا اچھا

محبت کا یہ پتھر اس دفعہ بھاری زیادہ ہے

چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں

دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے

مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔ

کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے

وہاں مقام تو رونے کا تھا مگر اے دوست

ترے فراق میں ہم کو ہنسی بہت آئی

ابھی میری اپنی سمجھ میں بھی نہیں آ رہی

میں جبھی تو بات کو مختصر نہیں کر رہا

روبرو کر کے کبھی اپنے مہکتے سرخ ہونٹ

ایک دو پل کے لیے گلدان کر دے گا مجھے

سنا ہے وہ مرے بارے میں سوچتا ہے بہت

خبر تو ہے ہی مگر معتبر زیادہ نہیں

ہم اتنی روشنی میں دیکھ بھی سکتے نہیں اس کو

سو اپنے آپ ہی اس چاند کو گہنائے رکھتے ہیں

آنکھ کے ایک اشارے سے کیا گل اس نے

جل رہا تھا جو دیا اتنی ہوا ہوتے ہوئے

مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر

میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا

ترا چڑھا ہوا دریا سمجھ میں آتا ہے

ترے خموش کنارے نہیں سمجھتا ہوں

وہ مجھ سے اپنا پتا پوچھنے کو آ نکلے

کہ جن سے میں نے خود اپنا سراغ پایا تھا

اب اس کی دید محبت نہیں ضرورت ہے

کہ اس سے مل کے بچھڑنے کی آرزو ہے بہت

وہ چہرہ ہاتھ میں لے کر کتاب کی صورت

ہر ایک لفظ ہر اک نقش کی ادا دیکھوں

کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے

جتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھے

ظفرؔ زمیں زاد تھے زمیں سے ہی کام رکھا

جو آسمانی تھے آسمانوں میں رہ گئے ہیں

وہ صورت دیکھ لی ہم نے تو پھر کچھ بھی نہ دیکھا

ابھی ورنہ پڑی تھی ایک دنیا دیکھنے کو

میں زیادہ ہوں بہت اس کے لیے اب تک بھی

اور میرے لیے وہ سارے کا سارا کم ہے

کرتا ہوں نیند میں ہی سفر سارے شہر کا

فارغ تو بیٹھتا نہیں سونے کے باوجود

اپنی یہ شان بغاوت کوئی دیکھے آ کر

منہ سے انکار بھی ہے اور سر بھی جھکائے ہوئے ہیں

آج کل اس کی طرح ہم بھی ہیں خالی خالی

ایک دو دن اسے کہیو کہ یہاں رہ جائے

یہ ہم جو پیٹ سے ہی سوچتے ہیں شام و سحر

کبھی تو جائیں گے اس دال بھات سے آگے

رہتا نہیں ہوں بوجھ کسی پر زیادہ دیر

کچھ قرض تھا اگر تو ادا بھی ہوا ہوں میں