ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کو

ظفر اقبال

ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کو

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کو

    مجھے پاگل کیا اس نے تماشا دیکھنے کو

    وہ صورت دیکھ لی ہم نے تو پھر کچھ بھی نہ دیکھا

    ابھی ورنہ پڑی تھی ایک دنیا دیکھنے کو

    تمنا کی کسے پروا کہ سونے جاگنے میں

    میسر ہیں بہت خواب تمنا دیکھنے کو

    بہ ظاہر مطمئن میں بھی رہا اس انجمن میں

    سبھی موجود تھے اور وہ بھی خوش تھا دیکھنے کو

    اب اس کو دیکھ کر دل ہو گیا ہے اور بوجھل

    ترستا تھا یہی دیکھو تو کتنا دیکھنے کو

    اب اتنا حسن آنکھوں میں سمائے بھی تو کیونکر

    وگرنہ آج اسے ہم نے بھی دیکھا دیکھنے کو

    چھپایا ہاتھ سے چہرہ بھی اس نامہرباں نے

    ہم آئے تھے ظفرؔ جس کا سراپا دیکھنے کو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ابھی آنکھیں کھلی ہیں اور کیا کیا دیکھنے کو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites