نہیں کہ دل میں ہمیشہ خوشی بہت آئی

ظفر اقبال

نہیں کہ دل میں ہمیشہ خوشی بہت آئی

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    نہیں کہ دل میں ہمیشہ خوشی بہت آئی

    کبھی ترستے رہے اور کبھی بہت آئی

    مرے فلک سے وہ طوفاں نہیں اٹھا پھر سے

    مری زمین میں وہ تھرتھری بہت آئی

    جدھر سے کھول کے بیٹھے تھے در اندھیرے کا

    اسی طرف سے ہمیں روشنی بہت آئی

    وہاں مقام تو رونے کا تھا مگر اے دوست

    ترے فراق میں ہم کو ہنسی بہت آئی

    رواں رہے سفر مرگ پر یونہی ورنہ

    ہماری راہ میں یہ زندگی بہت آئی

    یہاں کچھ اپنی ہواؤں میں بھی اڑے ہیں بہت

    ہمارے خواب میں کچھ وہ پری بہت آئی

    نہ تھا زیادہ کچھ احساس جس کے ہونے کا

    چلا گیا ہے تو اس کی کمی بہت آئی

    نہ جانے کیوں مری نیت بدل گئی یک دم

    وگرنہ اس پہ طبیعت مری بہت آئی

    ظفرؔ شعور تو آیا نہیں ذرا بھی ہمیں

    بجائے اس کے مگر شاعری بہت آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY