ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا

ظفر اقبال

ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا

    وہ خود ہی ایک دن اس دائرے سے گزرے گا

    بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند

    وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا

    جو اپنے آپ گزرتا ہے کوچۂ دل سے

    مجھے گماں تھا مرے مشورے سے گزرے گا

    قریب آنے کی تمہید ایک یہ بھی رہی

    وہ پہلے پہلے ذرا فاصلے سے گزرے گا

    قصوروار نہیں پھر بھی چھپتا پھرتا ہوں

    وہ میرا چور ہے اور سامنے سے گزرے گا

    چھپی ہو شاید اسی میں سلامتی دل کی

    یہ رفتہ رفتہ اگر ٹوٹنے سے گزرے گا

    ہماری سادہ دلی تھی جو ہم سمجھتے رہے

    کہ عکس ہے تو اسی آئینے سے گزرے گا

    سمجھ ہمیں بھی ہے اتنی کہ اس کا عہد ستم

    گزارنا ہے تو اب حوصلے سے گزرے گا

    گلی گلی مرے ذرے بکھر گئے تھے ظفرؔ

    خبر نہ تھی کہ وہ کس راستے سے گزرے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY