Kavish Badri's Photo'

کاوش بدری

1927

518
Favorite

باعتبار

ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا

جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی

اب نہ وہ احباب زندہ ہیں نہ رسم الخط وہاں

روٹھ کر اردو تو دہلی سے دکن میں آ گئی

جواب دینے کی مہلت نہ مل سکی ہم کو

وہ پل میں لاکھ سوالات کر کے جاتا ہے

از سر نو فکر کا آغاز کرنا چاہیئے

بے پر و بال سہی پرواز کرنا چاہیئے

سانس لینے بھی نہ پایا تھا کہ منظر گم ہوا

میں کسی قابل نہ تھا ورنہ ٹھہرتا اور کچھ

ماحول سب کا ایک ہے آنکھیں وہی نظریں وہی

سب سے الگ راہیں مری سب سے جدا منظر مرا

شاعری میں انفس و آفاق مبہم ہیں ابھی

استعارہ ہی حقیقت میں خدا سا خواب ہے

ایک منظر بھی نہ دیکھا گیا مجھ سے کاوشؔ

سارے عالم کو کوئی دیکھ رہا ہے مجھ میں

سکھ کی زمیں بسیط نہیں ہے تو کیا ہوا

دکھ تو مرا وشال ہے آکاش کی طرح

میری آواز کو آواز نے تقسیم کیا

ریڈیو میں ہوں ٹیلیفون کے اندر ہوں میں

لفظ کی بہتات اتنی نقد و فن میں آ گئی

مسخ ہو کر صورت معنی سخن میں آ گئی