Nasir Kazmi's Photo'

ناصر کاظمی

1923 - 1972 | لاہور, پاکستان

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

22.4K
Favorite

باعتبار

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

تیری مجبوریاں درست مگر

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا

ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی

کون اچھا ہے اس زمانے میں

کیوں کسی کو برا کہے کوئی

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا

جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے

بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں

آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے

جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے

تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

آج تو بے سبب اداس ہے جی

عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے

پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

ایک دم اس کے ہونٹ چوم لیے

یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی

یاد آئی وہ پہلی بارش

جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا

او میرے مصروف خدا

اپنی دنیا دیکھ ذرا

یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم

یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں

کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھے

تری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گا

چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصرؔ

یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں

آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا

عمر بھر جس کا راستا دیکھا

دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا

جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے

جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

اپنی دھن میں رہتا ہوں

میں بھی تیرے جیسا ہوں

کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے

رات بہت کالی ہے ناصرؔ گھر میں رہو تو بہتر ہے

رات کتنی گزر گئی لیکن

اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں

نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصرؔ

دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی

تجھ بن ساری عمر گزاری

لوگ کہیں گے تو میرا تھا

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

حال دل ہم بھی سناتے لیکن

جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں

تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

نہ ملا کر اداس لوگوں سے

حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوں

تو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا

اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ

یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں

کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا

روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے

نیند آتی نہیں تو صبح تلک

گرد مہتاب کا سفر دیکھو

جرم امید کی سزا ہی دے

میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر

سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں