Nasir Kazmi's Photo'

ناصر کاظمی

1925 - 1972 | لاہور, پاکستان

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

ناصر کاظمی کی ٹاپ ٢٠ شاعری

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

تیری مجبوریاں درست مگر

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے

تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے

بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

کون اچھا ہے اس زمانے میں

کیوں کسی کو برا کہے کوئی

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

تشریح

دوستو آج ناصر کاظمی کے اس حسین شعر کی تشریح کرتے ہیں۔ ناصر کاظمی نے شاعری میں جس تخیل اور جس ترتیب الفاظ کی بے مثال آمیزش کی ہے وہ دل پر اثر کرنے کی تمام تر صلاحیت رکھتی ہے۔ ناصر کاظمی نے اس شعر میں نہایت آسان الفاظ میں فراق یار کا افسانہ سنا دیا ہے ۔ وہ یار وہ محبوب جو ہمہ وقت ان کے اوسان پر حاوی ہے اور جو ایک لمحے کے لئے بھی ان کے ذہن و دماغ سے نہیں اترا ہے۔ محبوب سے ملاقات کو اس شعر میں ایک ایسی تقریب کی طرح بیان کیا گیا ہے کہ جس کے لیے نئے لباس کا تعین اور لباس کے ساتھ ساتھ چہرے کی زیبائش کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اپنے محبوب سے ملاقات کے لیے جس خوش دلی کے ساتھ شاعر خود کو تیار کرتا ہے وہی خوش دلی یاس اور اداسی میں بدل جاتی ہے، جب شاعر کا محبوب غیر موجود ہوتا ہے ۔

یہ شعر فراق کا فسانہ تو سناتا ہی ہے، اک ایسا یاس کا منظر نامہ بھی پیش کرتا ہے جس کے اثرات سننے والے یا پڑھنے والے کو بھی مغموم کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس گھڑی شاعر کا محبوب شہر میں موجود تھا اور شاعر کی ملاقات ہوا کرتی تھی اس خوشی کا کیا ٹھکانہ ہو سکتا ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کا محبوب شہر چھوڑ کر چلا گیا اور اس کے جانے کے ساتھ شاعر کے لیے شہر کی تمام رونقیں ختم ہو گئیں، شہر کا عالم ہی بدل گیا، شہر کا رنگ بے رنگی میں تبدیل ہوگیا۔ شاعر اس قدر مغموم ہے کہ نہ اس کا جی باہر نکلنے کو چاہ رہا ہے اور نہ اپنے لباس کی اور اپنے بالوں کی آرائش و زیبائش کی طرف متوجہ ہونے کو ۔

یہ منظر نامہ اتنا حقیقی ہے کہ ہم بھی گویا اس کرب اور اس تکلیف کو خود اپنے دل میں محسوس کر سکتے ہیں۔ بارہا ہم بھی کہیں نہ کہیں اس تکلیف سے گزرے ضرور ہیں۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ جہاں جہاں ہم اپنے دوست اور اپنے یار کے ساتھ گھومتے رہے ہیں، جن پارکوں اور ریستورانوں میں وقت گزاری کی گئی ہے وہ سب یکسر بے رنگ اور بے روح لگنے لگتے ہیں جب ہمارا دوست اور ہمارا یار ہم سے بچھڑ جاتا ہے یا وقتی طور ہم سے دور چلا جاتا ہے ۔

ایک اور اہم بات جو اس شعر کو پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ شاعر نے الفاظ کا جو تعین کیا ہے وہ اس قدر آسان ہے کہ جس نے شعر کے ظاہری حسن کو غیرمعمولی طور پر دمکا دیا ہے۔ یہ دمک اتنی تیز ہے کہ اس کے پیچھے کرب ناک منظر کی جو سیربین چل رہی ہے اسے صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر سامع یا قاری اس کرب تک پہنچ جاتا ہے تو اس شعر کا حق ادا ہوجاتا ہے ۔

اپنے محبوب کے بنا شہر سے گزرنے کا تصور ہی بہت روح فرسا ہے۔ جو کسی بھی حساس شخص کو آبدیدہ کر سکتا ہے ۔

اسی تصور کو ڈاکٹر بشیر بدر اس طرح بیان کرتے ہیں -

انہی راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے

مجھے روک روک پوچھا تیرا ہمسفر کہاں ہے

ناصر کاظمی نے درد و غم کرب و بےکلی کو جس آسان انداز میں بیان کر آفاقی رنگ دیا ہے اس کی مثال شاذ ہی ملتی ہے ۔

سہیل آزاد

تشریح

دوستو آج ناصر کاظمی کے اس حسین شعر کی تشریح کرتے ہیں۔ ناصر کاظمی نے شاعری میں جس تخیل اور جس ترتیب الفاظ کی بے مثال آمیزش کی ہے وہ دل پر اثر کرنے کی تمام تر صلاحیت رکھتی ہے۔ ناصر کاظمی نے اس شعر میں نہایت آسان الفاظ میں فراق یار کا افسانہ سنا دیا ہے ۔ وہ یار وہ محبوب جو ہمہ وقت ان کے اوسان پر حاوی ہے اور جو ایک لمحے کے لئے بھی ان کے ذہن و دماغ سے نہیں اترا ہے۔ محبوب سے ملاقات کو اس شعر میں ایک ایسی تقریب کی طرح بیان کیا گیا ہے کہ جس کے لیے نئے لباس کا تعین اور لباس کے ساتھ ساتھ چہرے کی زیبائش کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اپنے محبوب سے ملاقات کے لیے جس خوش دلی کے ساتھ شاعر خود کو تیار کرتا ہے وہی خوش دلی یاس اور اداسی میں بدل جاتی ہے، جب شاعر کا محبوب غیر موجود ہوتا ہے ۔

یہ شعر فراق کا فسانہ تو سناتا ہی ہے، اک ایسا یاس کا منظر نامہ بھی پیش کرتا ہے جس کے اثرات سننے والے یا پڑھنے والے کو بھی مغموم کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس گھڑی شاعر کا محبوب شہر میں موجود تھا اور شاعر کی ملاقات ہوا کرتی تھی اس خوشی کا کیا ٹھکانہ ہو سکتا ہے مگر افسوس صد افسوس جب اس کا محبوب شہر چھوڑ کر چلا گیا اور اس کے جانے کے ساتھ شاعر کے لیے شہر کی تمام رونقیں ختم ہو گئیں، شہر کا عالم ہی بدل گیا، شہر کا رنگ بے رنگی میں تبدیل ہوگیا۔ شاعر اس قدر مغموم ہے کہ نہ اس کا جی باہر نکلنے کو چاہ رہا ہے اور نہ اپنے لباس کی اور اپنے بالوں کی آرائش و زیبائش کی طرف متوجہ ہونے کو ۔

یہ منظر نامہ اتنا حقیقی ہے کہ ہم بھی گویا اس کرب اور اس تکلیف کو خود اپنے دل میں محسوس کر سکتے ہیں۔ بارہا ہم بھی کہیں نہ کہیں اس تکلیف سے گزرے ضرور ہیں۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ جہاں جہاں ہم اپنے دوست اور اپنے یار کے ساتھ گھومتے رہے ہیں، جن پارکوں اور ریستورانوں میں وقت گزاری کی گئی ہے وہ سب یکسر بے رنگ اور بے روح لگنے لگتے ہیں جب ہمارا دوست اور ہمارا یار ہم سے بچھڑ جاتا ہے یا وقتی طور ہم سے دور چلا جاتا ہے ۔

ایک اور اہم بات جو اس شعر کو پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ شاعر نے الفاظ کا جو تعین کیا ہے وہ اس قدر آسان ہے کہ جس نے شعر کے ظاہری حسن کو غیرمعمولی طور پر دمکا دیا ہے۔ یہ دمک اتنی تیز ہے کہ اس کے پیچھے کرب ناک منظر کی جو سیربین چل رہی ہے اسے صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر سامع یا قاری اس کرب تک پہنچ جاتا ہے تو اس شعر کا حق ادا ہوجاتا ہے ۔

اپنے محبوب کے بنا شہر سے گزرنے کا تصور ہی بہت روح فرسا ہے۔ جو کسی بھی حساس شخص کو آبدیدہ کر سکتا ہے ۔

اسی تصور کو ڈاکٹر بشیر بدر اس طرح بیان کرتے ہیں -

انہی راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے

مجھے روک روک پوچھا تیرا ہمسفر کہاں ہے

ناصر کاظمی نے درد و غم کرب و بےکلی کو جس آسان انداز میں بیان کر آفاقی رنگ دیا ہے اس کی مثال شاذ ہی ملتی ہے ۔

سہیل آزاد

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا

جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں

آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں

شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے

پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں

آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

رات کتنی گزر گئی لیکن

اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے