Nasir Kazmi's Photo'

ناصر کاظمی

1923 - 1972 | لاہور, پاکستان

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

غزل

اپنی دھن میں رہتا ہوں

فہد حسین

آرائش_خیال بھی ہو دل_کشا بھی ہو

نعمان شوق

اپنی دھن میں رہتا ہوں

نعمان شوق

او میرے مصروف خدا

نعمان شوق

اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو

نعمان شوق

پچھلے پہر کا سناٹا تھا

نعمان شوق

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے

نعمان شوق

تجھ بن گھر کتنا سونا تھا

نعمان شوق

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

نعمان شوق

ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائی

نعمان شوق

ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں

نعمان شوق

تو جب میرے گھر آیا تھا

نعمان شوق

تو ہے یا تیرا سایا ہے

نعمان شوق

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

نعمان شوق

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی

نعمان شوق

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے

نعمان شوق

حاصل_عشق ترا حسن_پشیماں ہی سہی

نامعلوم

خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے

نعمان شوق

خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا

نعمان شوق

دل میں اور تو کیا رکھا ہے

نعمان شوق

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

نعمان شوق

دن ڈھلا رات پھر آ گئی سو رہو سو رہو

نعمان شوق

دور_فلک جب دہراتا ہے موسم_گل کی راتوں کو

نعمان شوق

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا

نعمان شوق

دھوپ تھی اور بادل چھایا تھا

نعمان شوق

دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے

نعمان شوق

دیار_دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

نعمان شوق

رہ_نورد_بیابان_غم صبر کر صبر کر

نعمان شوق

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے_گا

نعمان شوق

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا

نعمان شوق

سفر_منزل_شب یاد نہیں

نامعلوم

شبنم_آلود پلک یاد آئی

نعمان شوق

شہر سنسان ہے کدھر جائیں

نعمان شوق

فکر_تعمیر_آشیاں بھی ہے

نعمان شوق

قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں

نعمان شوق

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

نعمان شوق

گرفتہ_دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

اقبال بانو

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

نامعلوم

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

ناصر کاظمی

مسلسل بیکلی دل کو رہی ہے

نعمان شوق

ممکن نہیں متاع_سخن مجھ سے چھین لے

نعمان شوق

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا

نعمان شوق

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے

نعمان شوق

نئے دیس کا رنگ نیا تھا

نعمان شوق

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

نعمان شوق

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے

نعمان شوق

نیت_شوق بھر نہ جائے کہیں

نعمان شوق

وہ دل_نواز ہے لیکن نظر_شناس نہیں

نعمان شوق

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

نعمان شوق

کچھ تو احساس_زیاں تھا پہلے

اقبال بانو

کچھ یادگار_شہر_ستم_گر ہی لے چلیں

نعمان شوق

کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے

نعمان شوق

کون اس راہ سے گزرتا ہے

نعمان شوق

یاد آتا ہے روز و شب کوئی

نعمان شوق

یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے

نعمان شوق

یہ بھی کیا شام_ملاقات آئی

نعمان شوق

یہ رات تمہاری ہے چمکتے رہو تارو

نعمان شوق

یہ شب یہ خیال_و_خواب تیرے

نامعلوم

کچھ تو احساس_زیاں تھا پہلے

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI