استقبالیہ کے لیے اشعار

شاعری ایسی کیفیتوں کو زبان دیتی جن سے ہم روز گزرتے تو ہیں لیکن ان کا اظہار بھی نہیں کرسکتے اورنہ ہی ان پر ٹھہر کر سوچ سکتے ہیں ۔ استقبال پر ہم نے ایسے ہی شعروں کو اکھٹا کیا ہے جو استقبال کرنے اور استقبال کئے جانے والے شخص کی نازک ترین کیفیتوں کا اظہاریہ ہیں ۔ یہ انتخاب استقبال کی اور بھی بہت سی جہتوں پر مشتمل ہے۔

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں

زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

how often does the moon condescend to come to earth

let us talk of love and joy now that you are here

how often does the moon condescend to come to earth

let us talk of love and joy now that you are here

وسیم بریلوی

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

مرزا غالب

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثاراختر

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

فرحت احساس

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

Am grateful you came finally, though you were delayed

hope had not forsaken me, though must say was afraid

Am grateful you came finally, though you were delayed

hope had not forsaken me, though must say was afraid

عندلیب شادانی

مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس

خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے

جون ایلیا

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

میر تقی میر

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے

تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

بشیر بدر

جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو

رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو

نامعلوم

ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا

وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا

نامعلوم

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود

آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

احمد فراز

اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا

رنگ دیکھو غریب خانے کا

جوشؔ ملیح آبادی

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت

کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

صبا اکبرآبادی

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج

سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں

اطہر نفیس

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم

تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم

واصف دہلوی

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے

بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

سید یوسف علی خاں ناظم

رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے

رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

سرفراز خالد

شکریہ تیرا ترے آنے سے رونق تو بڑھی

ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی

نامعلوم

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

اختر علی اختر

خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر

بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے

نامعلوم

بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی

ملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے

داغؔ دہلوی

بجائے سینے کے آنکھوں میں دل دھڑکتا ہے

یہ انتظار کے لمحے عجیب ہوتے ہیں

نامعلوم

آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو

پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو

نامعلوم

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا

وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

جگر مراد آبادی

یہ اور بات کہ رستے بھی ہو گئے روشن

دئے تو ہم نے ترے واسطے جلائے تھے

نثار راہی

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

پروین شاکر

سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گے

اللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہو

لالہ مادھو رام جوہر

یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا

اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن

قمر صدیقی

تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے

ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے

عرفان ستار

تم جو آئے ہو تو شکل در و دیوار ہے اور

کتنی رنگین مری شام ہوئی جاتی ہے

نہال سیوہاروی

محفل میں چار چاند لگانے کے باوجود

جب تک نہ آپ آئے اجالا نہ ہو سکا

نامعلوم

فضائے دل پہ کہیں چھا نہ جائے یاس کا رنگ

کہاں ہو تم کہ بدلنے لگا ہے گھاس کا رنگ

احمد مشتاق

ابھی تو اس کا کوئی تذکرہ ہوا بھی نہیں

ابھی سے بزم میں خوشبو کا رقص جاری ہے

افضل الہ آبادی

تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی

قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا

قیصر الجعفری

مدتوں بعد کبھی اے نظر آنے والے

عید کا چاند نہ دیکھا تری صورت دیکھی

منظر لکھنوی

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو

سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

فیض احمد فیض

میں نے آواز تمہیں دی ہے بڑے ناز کے ساتھ

تم بھی آواز ملا دو مری آواز کے ساتھ

نامعلوم

تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں

ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا

انور مسعود

شجر نے لہلہا کر اور ہوا نے چوم کر مجھ کو

تری آمد کے افسانے سنائے جھوم کر مجھ کو

شاہد میر

کون ہو سکتا ہے آنے والا

ایک آواز سی آئی تھی ابھی

کرار نوری

یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں

مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے

نامعلوم

ہم نے بصد خلوص پکارا ہے آپ کو

اب دیکھنا ہے کتنی کشش ہے خلوص میں

نامعلوم

آیا یہ کون سایۂ زلف دراز میں

پیشانئ سحر کا اجالا لیے ہوئے

جمیلؔ مظہری

ساقی شراب جام و سبو مطرب و بہار

سب آ گئے بس آپ کے آنے کی دیر ہے

نامعلوم

منتظر چشم بھی ہے قلب بھی ہے جان بھی ہے

آپ کے آنے کی حسرت بھی ہے ارمان بھی ہے

نامعلوم

یوں ہی ہر شام اگر آپ کو ہم یاد رہیں

صحبتیں گرم رہیں محفلیں آباد رہیں

نامعلوم

ہماری زندگی و موت کی ہو تم رونق

چراغ بزم بھی ہو اور چراغ فن بھی ہو

رشید لکھنوی

نگاہ شوق کی حیرانیوں کو کیا کہیے

انہیں بلا بھی لیا اعتبار بھی نہ کیا

نامعلوم

آپ اگر یوں ہی چراغوں کو جلاتے ہوئے آئیں

ہم بھی ہر شام نئی بزم سجاتے ہوئے آئیں

نامعلوم