Irfan Sattar's Photo'

عرفان ستار

1968 | کناڈا

غزل 58

اشعار 33

اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے

ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں

آباد مجھ میں تیرے سوا اور کون ہے؟

تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا

ہر ایک رنج اسی باب میں کیا ہے رقم

ذرا سا غم تھا جسے بے پناہ میں نے کیا

ای- کتاب 2

ساعت امکاں

 

2016

تکرار ساعت

 

2016

 

تصویری شاعری 4

کوئی ملا تو کسی اور کی کمی ہوئی ہے سو دل نے بے_طلبی اختیار کی ہوئی ہے جہاں سے دل کی طرف زندگی اترتی تھی نگاہ اب بھی اسی بام پر جمی ہوئی ہے ہے انتظار اسے بھی تمہاری خوش_بو کا ہوا گلی میں بہت دیر سے رکی ہوئی ہے تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں_گے ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے ہمارا علم تو مرہون_لوح_دل ہے میاں کتاب_عقل تو بس طاق پر دھری ہوئی ہے بناؤ سائے حرارت بدن میں جذب کرو کہ دھوپ صحن میں کب سے یونہی پڑی ہوئی ہے نہیں نہیں میں بہت خوش رہا ہوں تیرے بغیر یقین کر کہ یہ حالت ابھی ابھی ہوئی ہے وہ گفتگو جو مری صرف اپنے_آپ سے تھی تری نگاہ کو پہنچی تو شاعری ہوئی ہے

 

ویڈیو 13

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
مزاحیہ ویڈیو
Irfan Sattar Maqala on Jaun Elia Part 1/3

عرفان ستار

Irfan Sattar Maqala on Jaun Elia Part 2/3

عرفان ستار

Irfan Sattar Maqala On Jaun Elia Part 3/3

عرفان ستار

آڈیو 7

بزعم_عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا

رفتگاں کی صدا نہیں میں ہوں

وفا کے باب میں اپنا مثالیہ ہو جاؤں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • جون ایلیا جون ایلیا استاد
  • عزم بہزاد عزم بہزاد ہم عصر
  • اجمل سراج اجمل سراج ہم عصر