noImage

حیات لکھنوی

1931 - 2006 | لکھنؤ, ہندوستان

غزل 9

اشعار 7

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے

سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ

بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا

سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا

ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا

ای- کتاب 4

اوراق عزیز

 

1999

دریا رواں رہے

 

1992

حصار آب

 

1977

وسیلہ

 

1996

 

تصویری شاعری 1

وہم_و_گماں میں بھی کہاں یہ انقلاب تھا جو کچھ بھی آج تک نظر آیا وہ خواب تھا پائے_مراد پا کے وہ بے_حال ہو گیا منزل بہت حسین تھی رستہ خراب تھا چہرے کو تیرے دیکھ کے خاموش ہو گیا ایسا نہیں سوال ترا لا_جواب تھا اس کے پروں میں قوت پرواز تھی مگر ان موسموں کا اپنا بھی کوئی حساب تھا آنکھوں میں زندگی کی طرح آ بسا ہے وہ میری نظر میں پہلے جو منظر خراب تھا جیسے ہوا کا جھونکا تھا آ کر گزر گیا وہ شخص اس کے بعد کہاں دستیاب تھا سارا کلام اس سے معنون ہوا حیاتؔ جس کا وجود خود بھی مکمل کتاب تھا

 

شعرا متعلقہ

  • میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی Uncle
  • عزیز لکھنوی عزیز لکھنوی والد

شعرا کے مزید "لکھنؤ"

  • احمد شناس احمد شناس
  • والی آسی والی آسی
  • ابو الحسنات حقی ابو الحسنات حقی
  • اسلم محمود اسلم محمود
  • خورشید طلب خورشید طلب
  • اختر پیامی اختر پیامی
  • ارشد عبد الحمید ارشد عبد الحمید
  • انجم لدھیانوی انجم لدھیانوی
  • فرحان سالم فرحان سالم
  • نظیر باقری نظیر باقری