aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

جنید حزیں لاری

1933 | بنارس, انڈیا

جنید حزیں لاری کے اشعار

2.5K
Favorite

باعتبار

دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سے

تاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے

وہ سادگی میں بھی ہے عجب دل کشی لئے

اس واسطے ہم اس کی تمنا میں جی لئے

قطرہ نہ ہو تو بحر نہ آئے وجود میں

پانی کی ایک بوند سمندر سے کم نہیں

عشق ہے جی کا زیاں عشق میں رکھا کیا ہے

دل برباد بتا تیری تمنا کیا ہے

تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے

کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے

کبھی اس راہ سے گزرے وہ شاید

گلی کے موڑ پر تنہا کھڑا ہوں

اداسیاں ہیں جو دن میں تو شب میں تنہائی

بسا کے دیکھ لیا شہر آرزو میں نے

اسی کو دشت خزاں نے کیا بہت پامال

جو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا

عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے

خزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا

غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا

وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا

دور ساحل سے کوئی شوخ اشارا بھی نہیں

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں

غیروں کی شکستہ حالت پر ہنسنا تو ہمارا شیوہ تھا

لیکن ہوئے ہم آزردہ بہت جب اپنے گھر کی بات چلی

رکی رکی سی ہے برسات خشک ہے ساون

یہ اور بات کہ موسم یہی نمو کا ہے

کلیوں میں تازگی ہے نہ پھولوں میں باس ہے

تیرے بغیر سارا گلستاں اداس ہے

اک شمع آرزو کی حقیقت ہی کیا مگر

طوفاں میں ہم چراغ جلائے ہوئے تو ہیں

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے