aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "पुर्ज़ों"
ہاں تو میں کہاں ہوں، ابھی میرے حواس درست نہیں، لیکن یہ زمین اور یہ آسمان تو کچھ جانے بوجھے معلوم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو ایک طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ میں بھی انہیں کے ساتھ ہولوں۔۔۔ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں۔۔۔ اب ان راستوں پر پالکیاں...
شہر سے دو روزانہ، تین ہفتہ وار اور دس ماہانہ رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ ان میں چار ادبی، دو اخلاقی و معاشرتی و مذہبی، ایک صنعتی، ایک طبی، ایک زنانہ اور ایک بچوں کا رسالہ ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں بیس مسجدیں، پندرہ مندر اور دھرم شالے،...
نوکر نے کہا، ’’وہ تو رات ہی کو آگئی تھی۔ آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے۔‘‘ میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے سائیکل بھجوادینے میں اس قدر...
خوشیا سوچ رہا تھا۔۔۔ پنواڑی سے کالے تمباکو والا پان لے کر وہ اس کی دکان کے ساتھ اس سنگین چبوترے پر بیٹھا تھا، جو دن کے وقت ٹائروں اور موٹروں کے مختلف پرزوں سے بھرا ہوتا ہے۔ رات کو ساڑھے آٹھ بجے کے قریب موٹر کے پرزے اور ٹائر...
باغ بہشت میں مرزا غالب اپنے محفل میں ایک پر تکلف مسند پر بیٹھے دیوان غالب کی ورق گردانی کر رہے ہیں۔ اچانک باہر سے نعروں کی آواز آتی ہے۔ غالب کے اڑیں گے پرزے۔ غالب کے۔۔۔ اڑیں گے پرزے۔۔۔ مرزا گھبرا کر لاحول پڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ...
पर-पुर्ज़ों से दुरुस्त होनाپَر پُرْزوں سے دُرُسْت ہونا
اسباب ضروری موجود ہونا ، ساز و سامان سے درست ہونا ، خود کفیل ہونا .
ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کےآندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کے
گونگی ایک لمحے کے لیے بھی وہاں کھڑی نہ رہ سکی۔۔۔ باغیچے کی طرف جانے لگی اور پودے کے قریب پہنچ کر کھڑی ہو گئی۔ پھر نشتر کی طرح ایک خیال اس کے دل میں چبھا۔ اس نے تصویر کو نکالا اور اسے پرزے پرزے کرکے ہوا کی لہروں کے...
ایک دن سکھوبائی جھولی میں پرساد لیے بھاگی بھاگی آئی۔ ’’ہمارا صاحب آگیا‘‘، ان کی آواز لرز رہی تھی۔ آنکھوں میں موتی چمک رہے تھے۔ کتنا پیار تھا۔ اس لفظ ’ہمارا‘ میں۔ زندگی میں ایک بار کسی کو یوں جی جان کا دم نچوڑ کر اپنا کہنے کا موقعہ...
پھر یہ خیال آتا کہ نہیں دس ہزار سے کام نہیں چلے گا۔۔۔ کم از کم پچاس ہزار ہونے چاہئیں۔۔۔ میں سوچنے لگتا کہ اگراتنے روپے آجائیں، جو یقیناً آنے چاہئیں تو سب سے پہلے میں ایک ہزار نادار لوگوں میں تقسیم کر دوں گا۔۔۔ ایسے لوگوں میں جو روپیہ...
مرے خطوط تو جھلا کے پھاڑ دیتا ہےعجیب بات ہے پرزوں کو پھینکتا بھی نہیں
اس کو معلوم تھا کہ اس کے کمزور دل مخالف نے جھوٹ بولا۔ مگر نہ معلوم اس کے دل میں غصہ کیوں نہ پیدا ہوا۔۔۔ بخلاف اس کے اسے ایسا محسوس ہوا کہ جو شخص اس کے سامنے بیٹھا معافی مانگ رہا ہے اس کی کوئی نہایت ہی عزیز شے...
’’یہ آج تم نے کیسے پر پرزے نکال لیے۔۔۔‘‘ ’’پر پرزوں کے متعلق میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔ میں تو اتنا جانتی ہوں۔۔۔ کہ جب آپ سے کوئی معاملے کی بات کرے تو آپ بھِنّا جاتے ہیں۔۔۔ معلوم نہیں کیوں۔۔۔ میں نے کبھی آپ کی ذات پر تو حملہ نہیں کیا۔۔۔...
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books