aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "मुंबई"
رضا اکیڈمی، ممبئی
ناشر
ادارہ فن و شخصیت، ممبئی
تاج آفس محمد علی روڈ، ممبئی
رخشندہ کتاب گھر، ممبئی
پیوپلس پبلیشنگ ہاؤس، ممبئی
فاروقی پبلیشرز، ممبئی
ال امین پرنٹرس، ممبئی
دی ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ممبئی
شار پرنٹس، ممبئی
ادارہ تعلیم اسلام پوسٹ، ممبئی
تنویر ادب، ممبئی
علوی بکڈپو، ممبئی
اجمیری پبلی کیشن، ممبئی
بک سینٹر دم ٹم کر روڈ ممبئی
وہائٹ پیپر پبلیکیشن،ممبئی
تارا بائی کی آنکھیں تاروں کی ایسی روشن ہیں اور وہ گرد وپیش کی ہر چیز کو حیرت سے تکتی ہے۔ در اصل تارا بائی کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں۔ وہ قحط کی سوکھی ماری لڑکی ہے۔ جسے بیگم الماس خورشید عالم کے ہاں کام کرتے ہوئےصرف چند...
دل پونا سے ممبئی تک بھی جائے تورستے میں دلی کلکتہ ہوتا ہے
او میگڈلین۔ او موسم گل کے نیلے پرندو۔۔۔ بحیرۂ عرب سے اٹھنے والے بھاری بھاری بادل 23 کالج روڈ، ماٹنگا کے اس فلیٹ کی جانب اڑتے چلے آ رہے تھے جس کے نیچے ایک سیاہ بیوک آ کر رکی۔ اور زینے طے کرنے کے بعد دروازے پر پہنچ کر کسی...
منٹو کی اخلاقیات، جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے، اس قسم کے کسی بھی تناظر کی گنجائش نہیں رکھتی۔ اس کے یہاں الفاظ کی جو کفایت، اسلوب میں جوچستی اور کہانیوں کے مجموعی آہنگ میں جو غیر جذباتیت نمایاں ہے، وہ انسان کی طرف اس کے مخصوص رویے کی...
کوکن اور ممبئی کے اردو لوک گیت
میمونہ دلوی
خواتین کی تحریریں
شمارہ نمبر-005
ساغر نظامی
ایشیا، ممبئی
شمارہ نمبر۔002
عبدالسمیع بوبیرے
Feb 1978صبح امید، ممبئی
شمارہ نمبر-001
سید قمرالدین قمر
Jan 1891قمر، ممبئی
شمارہ نمبر-010
بینا رانی ناز
قمر، ممبئی
شمارہ نمبر-006
شمارہ نمبر-006,007,008
ڈاکٹر قمر زیدی
Oct 1972شاہراہ، ممبئی
شمارہ نمبر-003,004,005
Aug 1972شاہراہ، ممبئی
004
ایم عالم
Aug 1963فلم سنسار، ممبئی
012
Dec 1963فلم سنسار، ممبئی
007
Jul 1963فلم سنسار، ممبئی
009
Feb 1981صبح امید، ممبئی
شمارہ نمبر-005, 006
عبدالحمید بوبیرے
May, Jun 1968صبح امید، ممبئی
شمارہ نمبر-009,010
Sep, Oct 1964صبح امید، ممبئی
صرف اٹھارہ سال کی زندگی میں تم نے اتنی باتیں کیسے کہہ لیں! بظاہر تم کتنی معمولی لڑکی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کاندھوں تک لہراتے ہوئے بال جن کی باریک باریک آوارہ لٹیں چہرے کے گرد ہالہ سا بنائے کانپتی رہتیں۔ معمولی سا قد، دبلا پتلا دھان پان جسم جیسے تیز...
میں دیر تک بوسیدہ دیوار سے لگا، تانگے کے ڈھانچے کو دیکھتا رہا، جس کا ایک حصہ زمین میں دھنس چکا تھا اور دوسرا ایک سوکھے پیڑ کے ساتھ سہارا لیے کھڑا تھا، جس کی ٹُنڈ مُنڈ شاخوں پر بیٹھا کوا کائیں کائیں کر رہا تھا۔ کچھ راہ گیر سلام...
شہر ممبئیمجھے اس نے چنا ہے ہم سفر اپنا
احباب رشتے دار سبھی ممبئی میں ہیںلیکن دلوں کے بیچ بڑے فاصلے ہیں یار
ممبئی میں مجھے تین چیزیں پسند آئی ہیں، سمندر، ناریل کے درخت اور بمبئی کی ایکٹرس۔ اصل میں ان تین چیزوں سے بمبئی زندہ ہے، اگر ان تین چیزوں کو بمبئی سے نکال دیا جائے تو بمبئی، بمبئی نہ رہے، شاید دہلی بن جائے یا لاہور۔...
’’ہاں بھیا! گھر کے سارے مرد مارے گئے۔ بڑے داتا حکم کا ایک بیٹا اور منجھلے داتا حاکم کے دو بیٹے ممبئی کے کسی بڑے کالج میں پڑھتے ہیں، سو بچ گئے۔‘‘ ڈونگر گولا نے جو، اب بوڑھا ہو گیا تھا، کھانستے ہوئے ڈھیر سا بلغم دھول بھری زمین پریشر...
ایک شے کا نام جو بتلائے اس کا نام ہواپنی گلیوں میں نہیں ہے ممبئی سی چال بھر
تو نے اے ممبئی جو کچھ بھی دیا ہے مجھ کووہ مرا شہر تو صدیوں بھی نہ دے پائے مجھے
چکا چوندھحیرت زدہ
خیابان دانش گہہ ممبئی سےیہاں راج پتھ کے سفر تک
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books