شاہ محمد کا ٹانگہ

علی اکبر ناطق

شاہ محمد کا ٹانگہ

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    میں دیر تک بوسیدہ دیوار سے لگا، تانگے کے ڈھانچے کو دیکھتا رہا، جس کا ایک حصہ زمین میں دھنس چکا تھا اور دوسرا ایک سوکھے پیڑ کے ساتھ سہارا لیے کھڑا تھا، جس کی ٹُنڈ مُنڈ شاخوں پر بیٹھا کوا کائیں کائیں کر رہا تھا۔ کچھ راہ گیر سلام دعا کے لیے رُکے لیکن میری توجہ نہ پا کر آگے بڑھ گئے۔ مجھے اُس لکڑی کے پہیے اور بمبو کے ڈھانچے نے کھینچ کراچانک تیس سال پیچھے لے جا پھینکا۔

    لَے بھئی جوان! شاہ محمد نے چھانٹے کی لکڑی تانگے کے پہیے سے ٹکراتے ہوئے بات شروع کی، اُن دنوں مَیں ممبئی میں تھا اور جوانی مجھ پر پھوٹی پڑتی تھی اور خون تازہ تھا۔ بس وہ کار جاپان سے بن کر نئی نئی ہندوستان پہنچی تھی کہ مَیں نے خرید لی، اس بات کے دوران اُس نے چھانٹا پھر گھومتے ہوئے پہیے کے ساتھ لگا دیا، جس کی رگڑ سے گڑررر گڑررر کی آواز پیدا ہوئی اور گھوڑا مزید تیز ہو گیا، اور لگا ممبئی کی سڑکوں پر دوڑانے۔ میاں جوانی اندھا خون ہوتا ہے، ٹیلے، گڑھے نہیں دیکھتا، رگوں میں شراب کی طرح دوڑتا ہے، اور میری کوئی جوانی تھی؟ شہابی رنگ تھا، پھر گاڑی کا ہاتھ آ جانا قیامت ہو گیا، سوار ہو کر سڑک پر آتا تو لوگ کناروں سے جا لگتے، کہتے بھائی! اوٹیں لے لو اوٹیں، شاہ محمد قضا پر سوار چلا آتا ہے۔ اُن دنوں کار پرسواری بٹھانا شرم کی بات تھی اِس لیے اکیلا ہی گھومتا۔ ممبئی کے رش کا تو آپ کو پتا ہی ہے، لیکن میں نے کہا، شاہ محمد بات جب ہے، جب تُو گاڑی بھری سڑک پرہوا کی طرح چلائے۔ پھر تھوڑے ہی دنوں میں سرکس والوں کو پچھاڑنے لگا۔

    تو کیا چا چا آپ گاڑی لے کر سرکس میں کام کرنے لگے تھے؟ مَیں نے حیران ہوکر سوال کیا۔

    او میر ے بھتیجے! شاہ محمد نے گھوڑے کو چھانٹا مار کر مزید تیز کر دیا، سر کس والی بات تو میں مثا ل دینے کے لیے کر رہا ہوں۔ میرا اُن مداریوں سے کیا تعلق؟ وہ بچارے تو پیٹ بھرنے کے لیے یہ دھندا کرتے تھے، روزی روٹی کی تھوڑ اُن کو موت کے رسوں پر چلاتی ہے۔ اِدھر تجھے تو پتا نہیں، پر اللہ بخشے تیرا دادا میرے باپ کو جانتا تھا۔ ہم پُرکھوں سے نواب تھے۔ لاکھوں ہی روپے اِن ہاتھوں سے کھیل تماشوں میں جھونک دیے۔ خیر چھوڑ اِن باتوں کو، بات جاپانی کار کی ہو رہی تھی۔ ممبئی کی سڑکوں پر دوڑاتے دوڑاتے پورا سپرٹ ہو گیا اور حد یہ ہوئی کہ چلتے ہوئے بڑے ٹرالروں کے نیچے سے گزارنے لگا۔ یوں ایک چھپا کے سے چلتے ٹرالر کے درمیان سے نکل جاتا، جیسے بھوت اُڑ جائے۔ ممبئی میں میری مثالیں بن گئیں۔

    اب میرے کان کھڑے ہوئے۔ میں نے شدید حیرانی سے پوچھا، وہ کیسے چاچا شاہ محمد؟

    ہاہاہا، شاہ محمد نے مونچھ پر ہاتھ پھیر کر گھوڑے کو برابر تھپکی دی اور بولا، جوان یہ بات تیری سمجھ میں نہیں آسکتی، بس تُو چپ کر کے سنتا جا۔ ایک دن عجیب قصہ ہُوا، مَیں کار میں جا رہا تھا، قدرت خدا کی دیکھو، و ہ واحد دن تھا جب میری رفتار ہلکی تھی۔ کیا دیکھتا ہوں، سڑک کنارے ایک آدمی نڈھال اور بُرے حال میں زخمی بھاگا جا رہا ہے۔ محسوس ہوتا تھا، ابھی گِرا۔ اُس کے پیچھے پولیس ہُوٹر مارتی چڑھی آ رہی تھی۔ مَیں نے سوچا، بچارا مارا جائے گا، کچھ خدا ترسی کر دے۔ اُسی لمحے مَیں نے کار اُس کے پاس لے جا کر کھڑی کی اور کہا بھئی جلد بیٹھ جا۔ لَو جی، اِدھر وہ کار میں بیٹھا، اُدھر مَیں نے ریس دبا دی، گھوڑے کو ایک اور چھانٹا، اب پیچھے پولیس اور اُس کی ہوٹریں اور آگے مَیں۔ وہ بندہ بہت گھبرایا کہ ابھی پکڑے جائیں گے۔ اب اُس بھڑبھوسیے کو کون بتائے کہ وہ کس کے ساتھ بیٹھا ہے؟ پھر میری طرف دیکھ کر مسکرایا، مَیں تو جانتا تھا، بیچاری ممبئی پولیس کی کیا اوقات ہے، سو سال ٹریننگیں لے پھر بھی میری ہوا کو نہ پہنچے۔