aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".hoyi"
بیخود بدایونی
1857 - 1912
شاعر
ماہر عبدالحی
محمد علی خان آف ہوتی
مصنف
حوری نورانی
ناشر
حشمت حئی، پٹنہ
عبد الحی
1849 - 1887
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
زندگی کس طرح بسر ہوگیدل نہیں لگ رہا محبت میں
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیںدل مرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے
ہولی موسم بہار میں منایا جانے والا ایک مقدس مذہبی اور عوامی تہوار ہے۔ اس دن لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر محظوظ ہوتے ہیں، گھروں کے آنگن کو رنگوں سے سجایا جاتا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب ہولی کے مختلف رنگوں سے مزین ہے ۔ جس میں ہندوستان کے عوامی سروکار اور اتحاد باہمی کی فضا ہموار ہے ۔ یہ انتخاب پڑھیے اور دوستوں کو شریک کیجیے۔
نظیر اکبرآبادی اپنے رنگ کے ایک انوکھے شاعر تھے . انکی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کے تمام تمام رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں- انکی شاعری مذہبی اور ثقافتی اتحاد کا بہترین نمونہ ہے- پیش ہیں ہولی پر نظیر کی مقبول نظمیں-
میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور
होया ہویا
happened
होनी ہونی
ہونے والی بات، پیش آنے والی بات (بالخصوص بری)، شدنی، قسمت یا نصیب کی بات (بالعموم بد نصیبی کے لئے مستعمل)
ہندی
होती ہوتی
ہوتا کی تانیث
बोली بولی
. آواز ، وہ صدا جو کسی جاندار کے بولنے سے پیدا ہو
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
سفر میں دھوپ تو ہوگی
ندا فاضلی
جب زندگی شروع ہوگی
ابو یحیٰ محمد
اب صبح نہیں ہوگی
ابواللیث جاوید
افسانہ
مجموعہ فتاویٰ عبد الحئی اردو
سید خورشید عالم کاکوی
اگر میں نا ہوتی
ڈاکٹر اشرف جہاں
صبح ہوتی ہے
کرشن چندر
ناول
اب وہاں رات ہوگئی ہوگی
باصر سلطان کاظمی
کچھ ایسی نظمیں ہوتی ہیں
ادیب سہیل
نظم
ہماری دعا کیوں قبول نہیں ہوتی
حکیم محمد سعید دہلوی
زندگی ہے تو کہانی بھی ہوگی
فیاض رفعت
یہ خلش کہاں سے ہوتی۔۔۔
امرتا پریتم
کب صبح ملن ہوگی
اعزاز احمد آذر
شاعری
کہیں تو سحر ہوگی
ارشد کسانہ
یہ خلش کہاں سے ہوتی
شہاب کاظمی
مجموعہ
عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیرؔوہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہےاس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیفسخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔبھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہےجو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے
ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسمتو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگیسنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگینئے لوگ ہوں گے نئی بات ہوگی
تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنابرکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہےعمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتیتیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موتمجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتیتلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books