aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".noh"
نوح ناروی
1878 - 1962
شاعر
ن م راشد
1910 - 1975
کرشن بہاری نور
1926 - 2003
ن م دانش
born.1958
نور جہاں ثروت
1949 - 2010
قیصر حیدری دہلوی
1928 - 1992
ہاجرہ نور زریاب
born.1978
نیلوفر نور
born.1976
پارل سنگھ نور
born.1989
نور بجنوری
1924 - 2001
پنا لعل نور
منزہ نور
born.1992
نوبہار صابر
1907 - 1984
نور این ساحر
born.1997
منتظر لکھنوی
1768 - 1803
نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانےکہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں
ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیاہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیںپلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
سنتے رہے ہیں آپ کے اوصاف سب سے ہمملنے کا آپ سے کبھی موقع نہیں ملا
ختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھی
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
نون میم راشد کا شمار اردو کےان ممتاز نظم گو شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے خوبصورت اور آرائشی اسلوب سے اس صنف کی صحیح معنوں میں ایک پہچان دی ہے۔ اس مجموعہ میں ان کی منتخب نظموں کے ساتھ ساتھ ان نظموں کی ڈرامائی ریکارڈنگز بھی شامل ہیں، تاکہ آپ ان نظموں کو سن کر بھی لطف اٹھا سکیں
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
नौ نَو
نیا، جدید
سنسکرت
नौ' نوع
قسم، جنس، طرح (مختلف اور مشترک خصوصیات کے لحاظ سے)
عربی
no no
مات
नौ-सौ نَو سَو
گنتی میں آٹھ سو ننانویں اور ایک ، سو کم ہزار (۹۰۰) ۔
مثنوی نہہ سپہر
امیر خسرو
مثنوی
اعجاز نوح
محمد نوح صاحب نوح
دیوان
کشتئی نوح
میرزا غلام احمد قادیانی
طوفان نوح
مولوی محمد اسحاق
سفینۂ نوح
محمد شفیع اوکاڑوی
کشتی نوح
مرزا غلام احمد قادیانی
ترجمہ
ناول ثریا
ناول
سید ارادت کریم الحیسنی
تاریخ اسلام
معراج خیال
سید محمد نوح شہیر
شاعری
ہفت بند محزوں
ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گےیہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج
عشق میں کچھ نظر نہیں آیاجس طرف دیکھیے اندھیرا ہے
دوستی کو برا سمجھتے ہیںکیا سمجھ ہے وہ کیا سمجھتے ہیں
وہ خدائی کر رہے تھے جب خدا ہونے سے قبلتو خدا جانے کریں گے کیا خدا ہونے کے بعد
کہیں نہ ان کی نظر سے نظر کسی کی لڑےوہ اس لحاظ سے آنکھیں جھکائے بیٹھے ہیں
دل کے دو حصے جو کر ڈالے تھے حسن و عشق نےایک صحرا بن گیا اور ایک گلشن ہو گیا
خدا کے ڈر سے ہم تم کو خدا تو کہہ نہیں سکتےمگر لطف خدا قہر خدا شان خدا تم ہو
بحر ذوق و شوق میں یہ بھی غنیمت جانیےنوحؔ کو طوفان اٹھا کر غرق کرنا آ گیا
برسوں رہے ہیں آپ ہماری نگاہ میںیہ کیا کہا کہ ہم تمہیں پہچانتے نہیں
مجھ کو یہ فکر کہ دل مفت گیا ہاتھوں سےان کو یہ ناز کہ ہم نے اسے چھینا کیسا
لیلیٰ ہے نہ مجنوں ہے نہ شیریں ہے نہ فرہاداب رہ گئے ہیں عاشق و معشوق میں ہم آپ
محفل میں تیری آ کے یوں بے آبرو ہوئےپہلے تھے آپ آپ سے تم تم سے تو ہوئے
کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھیمیں کسی سے بولنے والی نہیں
جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سےوہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز
نہ ملو کھل کے تو چوری کی ملاقات رہےہم بلائیں گے تمہیں رات گئے رات رہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books