aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Dubaatii"
نیلما ناہید درانی
born.1955
شاعر
تاجور نجیب آبادی
1894 - 1951
شاہد محمود
born.1966
علیم درانی
سیمیں درانی
born.1971
مصنف
عصمت درانی
شام درانی
عطش درانی
نسیم درانی
بشیر درانی
born.1902
محمد ریاض درانی
ناشر
مرتضیٰ احمد خاں درانی
محمد احمد خان درانی
مدیر
سعیدہ درانی
محمد لطیف درّانی
عیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسی
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاًاور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبوزندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گااب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گا
डूबती ڈُوبْتی
ڈُوبتا (رک) کی تانیث (تراکیب میں مستعمل).
सुबाती سُباتی
وہ نس جو دل سے بدن میں خون پہنچاتی ہے ، شِریان .
दुलत्ती دُلَتَی
چوپائے کا پچھلی دونوں ٹانگیں اٹھا کرلات مارنا
ہندی
दुलत्ती मारना دُلَتّی مارنا
رک : دلتّی جھاڑنا .
مینڈا سائیں
تہمینہ درانی
خود نوشت
دیہاتی معالج
نامعلوم مصنف
عقل مند برہمن اور دوسری کہانیاں
افسانہ
اردو اصطلاحات سازی
ابو الاسود دؤلی
سوانح حیات
ڈوبتے بدن کا ہاتھ
ریاض مجید
دیہاتی گیت
اعظم کریوی
ڈوبتے چاند کا منظر
ناصر زیدی
ماہ لقا اور دوسری نظمیں
عزیز احمد
نظم
اسلام اور معاشی اصلاحات
اسلامیات
مدارس اسلامیہ کی دینی ودعوتی خدمات
عبید اللہ فہد فلاحی
مضامین/ انشائیہ
جب تک آنکھیں زندہ ہیں
مجموعہ
قصہ شیر کا (شکاری کی زبانی)
اسرار احمد خاں درانی
شکاریات
دیہاتی دنیا
مہتہ امرناتھ موہن
اسلامی فکر و ثقافت
کچھ اڑتے رنگیں غبارےببو کے دوپٹے کے تارے
بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کیاور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لئے
وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائےاور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ
وہ اچھا تھا جو بیڑا موج کے رحم و کرم پر تھاخضر آئے تو کشتی ڈوبتی معلوم ہوتی ہے
بہت دل کو دکھاتا ہے کبھی جب درد مہجوریتری یادوں کی جانب مسکرا کر دیکھ لیتا ہوں
کیا ڈبایا محیط میں غم کےہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق
ایک دیوار باغ سے پہلےاک دوپٹا کھلے گلے کے لئے
تم کو لگتا ہے کہ تم جیت گئے ہو مجھ سےہے یہی بات تو پھر کھیل دوبارہ ہو جائے
بود و نبود کی تمیز ایک عذاب تھی کہ تھییعنی تمام زندگی دھند میں ڈوبتی گئی
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیںکچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
سلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
شکریا لطف مسلسل کا مگرگاہے گاہے دل دکھاتے جائیے
کسی سپاہ نے خیمے لگا دیے ہیں وہاںجہاں پہ میں نے نشانی تری دبائی تھی
شوق کی ایک عمر میں کیسے بدل سکے گا دلنبض جنون ہی تو تھی شہر میں ڈوبتی گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books