aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Musala"
عبید اللہ خاں مبتلا
شاعر
مثنی رضوی
born.1928
مردان علی خان مبتلا لکھنوی
مصنف
مجلہ سفیر سخن، پیشاور
ناشر
مبتلا اورنگ آبادی
died.1785
بزم عشرت، محلہ سرائے، بدایوں
دفتر اردوئے معلیٰ، کانپور
حسن مثنیٰ ندوی
1913 - 1998
مجلہ ارمغانں
سید حسن مثنیٰ ندوی
مدیر
محمد مثنّٰی
جناب ستطاب معلیٰ
مبتلا حسین
حسن مثنیٰ
مبتلا
فصل بہار آئی پیو صوفیو شراببس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے
جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہیاور سجادہ بھی گویا ہے وہی
تیری آنکھوں میں دکھائی دے محبت میریبے نمازی ترے بستے سے مصلیٰ نکلے
خراب کوشک سلطان و خانقاہ فقیرفغاں کہ تخت و مصلیٰ کمال رزاقی
طاق میں شمع کے آنسو ہیں ابھی تک باقیاب مصلٰی ہے نہ منبر نہ مؤذن نہ امام
मुसल्ला مُصَلّا
मुसल्ला مُصَلّیٰ
عربی
نماز پڑھنے کی جگہ، جائے نماز، بوریا، دری وغیرہ جس پر نماز پڑھی جائے
मसअला مَسْئَلَہ
(امور دینوی و دنیاوی، علمی، عقلی وغیرہ سے متعلق) ہر وہ بات جس سے متعلق سوال کیا جائے، حل طلب معاملہ، پوچھی ہوئی بات، سوال
हौसला حَوصَلَہ
پرند کا معدہ، پوٹا
کنزالمصلیٰ
کنز المصلے
نامعلوم مصنف
اردو داستان
سہیل بخاری
فکشن تنقید
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
عورت
سیمون دی بووا
سماجی مسائل
مارکسزم ایک مطالعہ
ظفر امام
تنقید
اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ
خالد محمود
سفر نامہ
عورت ایک نفسیاتی مطالعہ
ترجمہ
اردو ناول کا سماجی اور سیاسی مطالعہ
نگینہ جبیں
ن۔ م۔ راشد: ایک مطالعہ
جمیل جالبی
نظم تنقید
اردو ڈراما: تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ
وقار عظیم
اردو مختصر افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ
نگہت ریحانہ خان
افسانہ تنقید
اقبال کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ
ساحل احمد
تحقیق
اکبر الہ آبادی
خواجہ محمد زکریا
میراجی ایک مطالعہ
شاعری تنقید
میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگادر مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا
مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کاکنار آب رکناباد و گلگشت مصلےٰ ہے
ہر جام ہے نظارۂ کوثر مرے حق میںہر گام ہے گلگشت مصلےٰ مرے آگے
مصلیٰ رکھتے ہیں صہبا و جام رکھتے ہیںفقیر سب کے لیے انتظام رکھتے ہیں
زاہد ہو دوچار نگہ مست تو دیکھیںآلودہ بہ مے کیونکہ مصلیٰ نہیں ہوتا
شب وصال اس کا سرخ آنچل مصلیٰ کر کےبدن وظیفے کا ورد جاری رکھا ہوا ہے
شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کروجنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو
کل میرے گھر سے میرا مصلیٰ اڑا لیاملا بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا
میں بچھاتا ہوں مصلیٰ سر محراب نیازپھر عبادت مجھے پاتال میں لے جاتی ہے
مالک رام پہلی دفعہ جوش ملیح آبادی صاحب سے ملنے گئے تو جاڑوں کا موسم تھا۔ شام کے تقریباًچھ بجے تھے۔ اتنے میں قریب کی مسجد سے اذان کی آواز آئی تو جوش صاحب نے اپنے بیٹے سجاد کوآواز دی کہ بیٹے میرا مصلیٰ لانا۔ مالک رام صاحب حیران ہوئے...
بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہےکیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا
دیکھ بت خانے میں تصویر کا عالم اے شیخیاں مصلیٰ نہیں منبر نہیں محراب نہیں
یہ لوگ کس لئے اپنے طواف میں ہیں مگنصنم کدے میں مصلیٰ بچھا نہ رہ جائے
تہذیب مصلیٰ سے واقف ہی نہ تھا کچھ بھیاور بیٹھ گیا دیکھو سجادے پہ آ کر کے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books